عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/قانون ساز اسمبلی میں پیر کے روز ریزرویشن کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا گیا، جہاں پیپلز کانفرنس کے ایم ایل اے سجاد غنی لون نے کہا کہ 1947 کے بعد پہلی بار کشمیر اور جموں کے درمیان بھرتیوں میں اس قدر تفاوت دیکھنے کو مل رہا ہے۔زیرو آور کے دوران لون نے اسپیکر کی توجہ اپنی جانب سے پیش کردہ ایڈجورنمنٹ موشن کی طرف مبذول کرائی، جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے اکنامکلی ویکر سیکشن (EWS) کے معیار کو معقول بنانے میں ناکامی پر بحث کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معیار کشمیریوں کے لیے مسابقتی مواقع کو محدود کر رہا ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ وہ ایڈجورنمنٹ موشن کو مسترد نہیں کر رہے، تاہم اس کے لیے استعمال کیا گیا پارلیمانی طریقہ کار مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا، اگر اس معاملے کو درست کرنے کے لیے قانون سازی درکار ہے تو اس پر ایڈجورنمنٹ موشن نہیں لایا جا سکتا۔لون نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف ریزرویشن کا نہیں بلکہ اکنامکلی ویکر سیکشن کی تعریف کا ہے۔
وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امور صارفین ستیش شرما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لون نے کہا کہ ان کے محکمہ کے مطابق کشمیر میں 37 لاکھ بی پی ایل آبادی ہے جبکہ جموں میں یہ تعداد 29 لاکھ ہے، لیکن سوشل ویلفیئر محکمہ کے مطابق 90 فیصد غریب آبادی جموں میں اور صرف 10 فیصد کشمیر میں ہے۔انہوں نے کہا، آپ نے حالیہ کے اے ایس اور جوڈیشل سروس کے نتائج دیکھے ہوں گے، اس طرح کا فرق پہلے کبھی نہیں تھا۔
ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے لون نے کہا کہ حکومت کے معیار کے مطابق ایک شخص راشن خریدتے وقت غریب ہوتا ہے، لیکن نوکری کے لیے درخواست دیتے وقت امیر بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا، یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ ایک ہی حکومت ہے۔ ہر مسئلہ قانون سازی سے حل نہیں ہوتا۔لون نے خبردار کیا کہ موجودہ ای ڈبلیو ایس معیار آئندہ بھرتیوں میں کشمیریوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ناانصافی کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا،وزیر اعلیٰ نے 30 ہزار نوکریوں کا اعلان کیا ہے، جن میں سے 3000 ای ڈبلیو ایس کے تحت ہوں گی، لیکن کشمیریوں کو ان میں سے 100 بھی نہیں ملیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق 60 فیصد سرٹیفکیٹس کشمیر اور 40 فیصد جموں میں جاری ہونے چاہئیں۔لون نے مطالبہ کیا کہ ای ڈبلیو ایس کے معیار کو تبدیل کیا جائے، اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیرالہ نے اسے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم سے منسلک کیا ہے۔
بی جے پی کے ایم ایل اے نریندر سنگھ خالصہ نے لون کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایس ڈیٹا کو ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔تاہم اسپیکر نے بی جے پی رکن کو مداخلت سے روکتے ہوئے کہا، ’’یہ معاملہ ان اور میرے درمیان ہے، آپ مداخلت نہ کریں۔‘‘