عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ ایک بڑا چیلنج ہے، جو صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ ملک کی تمام سرحدی ریاستیں اس مسئلے کا سامنا کر رہی ہیں۔ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ ایک چیلنج ہے اور یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں۔ سرحدی علاقوں میں واقع تمام ریاستیں اس حوالے سے پریشان ہیں، خاص طور پر پنجاب میں یہ مسئلہ زیادہ سننے کو ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان بھی متعدد بار اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ سرحد پار سے ہونے والی منشیات اسمگلنگ نے ریاست کے بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ اسی طرح راجستھان اور گجرات سے بھی وقتاً فوقتاً ایسی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت منشیات کے خاتمے کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے، خاص طور پر بحالی مراکز کے ذریعے نشے کے عادی افراد کو نئی زندگی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ’’نشہ سے پاک بھارت‘‘کے خواب کو حقیقت بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے یوتھ ونگ نے کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاد کیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا اور انہیں منشیات سے دور رکھنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 29 مارچ کو جموں میں منعقد ہونے والی پہلی ہاف میراتھن، 10 کلومیٹر اور 5 کلومیٹر دوڑ میں خراب موسم کے باوجود لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔عمر عبداللہ نے کہامیں نے دیکھا کہ کئی افراد بغیر رجسٹریشن کے بھی صرف دوڑ کے شوق میں شریک ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر کے نوجوان کھیلوں میں آگے بڑھنے کیلئے پُرجوش ہیں۔ وہ بہتر سہولیات اور مواقع چاہتے ہیں اور ہم اس پر توجہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف کرکٹ گراؤنڈز کی تعمیر ہی ضروری نہیں بلکہ فٹ بال، ہاکی، بیڈمنٹن، والی بال، کھو کھو، کبڈی اور کشتی جیسے دیگر کھیلوں میں بھی مقامی نوجوان بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر کھیل ستیش شرما کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
سرحدی ریاستوںکیلئے منشیات اسمگلنگ بڑا چیلنج: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ