عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/طلباء کے پرامن احتجاج پر پابندی عائد کرنے پر نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ تنویر صادق نے سوال انداز میں کہا کہ ’’ماضی میں یہی لوگ جب احتجاج کرنے کیلئے وزیرِ اعلیٰ کی رہائش تک پہنچےتھے تو آج کیا وجہ ہوئی کہ طلباجب ایک پُرامن احتجاج کے لیے نکلے تو اچانک حکام کریک ڈاؤن نافذ کر دیا اور اِس طرح سے اختلافِ رائے کو کچل دیا گیا ۔
تنویر صادق نے سماجی رابطہ گاہ ’ایکس ‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’جب غصے کا رخ منتخب حکومت کی طرف تھا، تب ہم نے طلبہ کو ان کے جائز جمہوری حقِ احتجاج سے نہیں روکا۔ اور آج بھی ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے، محض اس لیے کہ ان کا پُرامن احتجاج اب لوک بھون کی طرف متوجہ ہے۔
انھوں نے کہا ہم نے ریزرویشن کوٹہ میں عقلی بنیادوں پر اصلاحات کا واضح وعدہ کیا تھا، اور ہم نے اسے بروقت، شفاف اور نیک نیتی کے ساتھ پورا کیا۔ رپورٹ مکمل ہو چکی ہے اور متعلقہ فورم کو ارسال کر دی گئی ہے۔ اس مرحلے پر یہ معاملہ منتخب حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، تاہم ہم اس کی پیروی جاری رکھیں گے۔تنویر صادق کا مزید کہنا تھا کہ یہ صورتحال ان لوگوں کے لیے ایک سخت یاد دہانی ہے جو ریاستی حیثیت کی بحالی کو ’’غیر اہم مسئلہ‘‘قرار دیتے ہیں۔ جموں و کشمیر کو ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جس کے پاس حقیقی اختیارات ہوں، جو بلا ضرورت تاخیر، مداخلت یا جمہوری آوازوں کے دباؤ کے بغیر فیصلے لے سکے اور انہیں نافذ کر سکے۔
انھوں نے کہا کہ طلبہ رہنماؤں کے خلاف غیر ضروری کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف ناقص حکمتِ عملی کا مظہر ہیں بلکہ قطعی طور پر بلا جواز بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک جمہوری نظام میں پُرامن احتجاج اور خیالات کے آزادانہ تبادلے کو جائز اور محفوظ اظہار سمجھا جاتا ہے۔طلبہ کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ ہم ان کے جمہوری حقوق کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
طلباءکے پُرامن احتجاج پرقدغن قابلِ مذمت، جمہوری آوازوں کو دبایا نہیں جا سکتا : تنویر صادق