عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک اہم فیصلے میں ایک نابالغ لڑکی کے 30 ہفتوں کے حمل کو طبی طور پر ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کوئی بھی عدالت کسی خاتون کو اور بالخصوص کسی نابالغ لڑکی کو، اس کی مرضی کے خلاف حمل جاری رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔جسٹس بی۔ وی۔ ناگرَتنا اور جسٹس اُجول بھوئیاں پر مشتمل بنچ نے زور دے کر کہا کہ حاملہ لڑکی کے اس حق کو کہ وہ بچے کو جنم دے یا نہ دے، مناسب اہمیت دی جانی چاہیے، خاص طور پر اُس صورت میں جب وہ بچے کو جنم دینا نہ چاہتی ہو اور اس خواہش کا اس نے بار بار واضح الفاظ میں اظہار بھی کیا ہو۔ بنچ نے واضح کیا کہ اصل سوال یہ تھا کہ کیا کسی نابالغ کو حمل کی حالت جاری رکھنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جو اس کی مرضی کے بغیر ہو۔
عدالت نے کہا کہ عدالت کسی بھی خاتون کو، نابالغ لڑکی کی تو بات ہی چھوڑ دیجیے، حمل کی مدت پوری کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی، اگر اس کا ایسا کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ یہ معاملہ اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ حمل رضامندی سے قائم تعلق کے نتیجے میں ٹھہرا تھا یا زیادتی کے سبب۔ درحقیقت فیصلہ اس بات سے طے ہوگا کہ نابالغ کی واضح خواہش کیا ہے اور کیا اس کا پختہ ارادہ یہی ہے کہ وہ بچے کو جنم نہ دے۔ جسٹس ناگرَتنا نے تسلیم کیا کہ اگرچہ بچے کی پیدائش بالآخر ایک نئی زندگی کو دنیا میں لانا ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں نابالغ کی واضح عدم رضامندی سب سے اہم عنصر ہے۔سپریم کورٹ نے ممبئی کے جے جے اسپتال کو ہدایت دی کہ وہ تمام ضروری طبی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے حمل کے طبی اختتام کا عمل شروع کریں۔ یہ فیصلہ ہندوستان میں اسقاطِ حمل کے قانون کے تحت تولیدی حقوق کی تشریح میں ایک سنگِ میل مانا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 24 ہفتوں کی قانونی حد کے بعد بھی، خصوصی حالات میں، عدالت نے اس لڑکی کی پسند کو ترجیح دی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگنینسی (ترمیمی) ایکٹ 2021 کے مطابق اسقاطِ حمل کی مدت مختلف زمروں میں طے کی گئی ہے۔ عام حالات میں تمام خواتین کے لیے 20 ہفتوں تک کے حمل کو ختم کرنے کی اجازت ہے، تاہم اس کے لیے ڈاکٹر کی رائے ضروری ہے۔ خصوصی زمروں کی خواتین، جیسے زیادتی کا شکار لڑکیاں، نابالغ، بیوائیں، معذور یا سنگین بیماری میں مبتلا خواتین کے لیے یہ حد 24 ہفتوں تک مقرر ہے اور اس کے لیے دو ڈاکٹروں کی اجازت لازمی ہے۔ اگر رحم میں پرورش پانے والے جنین کو سنگین بیماری لاحق ہو، تو ریاستی سطح کے میڈیکل بورڈ کی اجازت کے بعد 24 ہفتوں کے بعد بھی اسقاطِ حمل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر حاملہ خاتون کی جان کو فوری طور پر کوئی سنگین خطرہ ہو، تو قانون کی کسی بھی مدت کی پابندی کے بغیر ہنگامی حالت میں اسقاطِ حمل کی اجازت دی جاتی ہے۔
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، 30 ہفتوں کے حمل کو ختم کرنے کی اجازت