عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے جمعہ کے روز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران چندہ جمع کرنے سے متعلق جاری کردہ ہدایت نامہ ان کی ذاتی پہل پر نہیں بلکہ مذہبی رہنماؤں کے اصرار پر جاری کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت پر مذہبی معاملات میں مداخلت کے الزامات سامنے آئے تو انہوں نے اس معاملے کی جانچ کی۔
انہوں نے کہا، “یہ بات سامنے آئی کہ ڈی سی نے یہ حکم خود سے جاری نہیں کیا۔ رمضان المبارک سے قبل تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ عوام سے مشاورت کر کے مقدس مہینے کی تیاریوں کا آغاز کریں۔ اسی سلسلے میں کشتواڑ اور ملحقہ علاقوں کے مذہبی رہنماؤں اور مقامی افراد نے ڈی سی سے ملاقات کی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ رمضان کے دوران کچھ افراد جعلی این جی اوز قائم کر کے چندہ جمع کرتے ہیں، لیکن اس رقم کے استعمال کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات مریضوں کے نام پر بھی چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے، مگر یہ واضح نہیں ہوتا کہ ایسے مریض حقیقت میں موجود بھی ہیں یا نہیں۔”
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ڈی سی کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے اقدامات کریں جن سے حقیقی این جی اوز کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ ڈی سی سے کہا گیا کہ وہ اس معاملے کو منظم کرنے کے لیے مناسب حکم جاری کریں، جس پر انہوں نے مذہبی رہنماؤں کی درخواست کے مطابق کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ اس حکم کا خیرمقدم جامع مسجد کشتواڑ کے امام، دیگر مذہبی رہنماؤں اور مقامی لوگوں نے کیا۔
وزیر اعلیٰ نے ارکانِ اسمبلی سے اپیل کی کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا،میں معزز رکن اور دیگر اراکین سے گزارش کرتا ہوں کہ ہر معاملے کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔
کشتواڑ ڈی سی کا حکم مذہبی رہنماؤں کی درخواست پر جاری ہوا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ