عظمیٰ ویب ڈیسک
اودھم پور/ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد اودھم پور سانحہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں حادثے کی وجوہات اور بس ڈرائیور سے متعلق سنگین کوتاہیوں اور غفلت کو اجاگر کیا گیا تھا۔رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے غلطیوں کا اعتراف کیا اور خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
بدھ کے روز وزیر اعلیٰ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج اودھم پور کا دورہ کیا اور حالیہ بس حادثے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ انہوں نے اس المناک واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ بس کا اصل ڈرائیور چھٹی پر تھا اور گاڑی ایک ٹرک ڈرائیور کے حوالے کر دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس بس کا ماضی میں کئی بار چالان بھی ہو چکا تھا۔ڈپٹی کمشنر اودھم پور نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو مکمل رپورٹ پیش کرے گی جس کی بنیاد پر حکومت کارروائی کرے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ سڑک کی حالت بہتر تھی لیکن غفلت کے باعث حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے اوور اسپیڈنگ اور اوور لوڈنگ کو ایسے حادثات کی بڑی وجوہات قرار دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی مالکان کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ متعدد چالان کے باوجود گاڑی کو چلنے کی اجازت دی گئی۔
وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وزیر صحت سکینہ ایتو، وزیر ٹرانسپورٹ ستیش شرما، ڈپٹی کمشنر منگا شیرپا، ٹرانسپورٹ کمشنر وشیش پال مہاجن اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ پیر کی صبح رام نگر اودھم پور میں ایک مسافر بس حادثے کا شکار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق جبکہ 61 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ٹریفک خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں تاہم عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اودھم پور سانحہ پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا اعترافِ کوتاہی،کہا ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی