عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں منعقدہ جموں و کشمیر کابینہ کے اجلاس میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر ہوئے حملے کی متفقہ طور پر شدید مذمت کی گئی اور اس واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔سرکاری ترجمان کے مطابق کابینہ نے مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں 18 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ ٹرانسپورٹرز گزشتہ پانچ برسوں سے کرایوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے اور انہوں نے 50 فیصد اضافے کی مانگ کی تھی، تاہم حکومت نے 18 فیصد اضافے کو منظوری دی۔
ترجمان نے بتایا کہ حکومت نے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے مزید 200 بسیں سڑکوں پر اتارنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔کابینہ نے وزراء، اراکینِ اسمبلی، اسپیکر اور قائد حزبِ اختلاف کے ٹی اے، ڈی اے اور طبی الاؤنسز میں اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔
ایل پی جی کی موجودہ قلت کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایل پی جی کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور عوام سے حکام کے ساتھ تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس، ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حملے کی مذمت، مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں 18 فیصد اضافے کومنظوری