عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران کے خلاف جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفارتی سطح پر مداخلت کر کے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جنگ جس انداز میں لڑی جا رہی ہے، اس کی کوئی بھی حمایت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر افراد کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے عام شہریوں، بالخصوص بچوں کی ہلاکتوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے جنگ کے مقاصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی واضح وجہ نظر نہیں آتی۔ انہوں نے امریکی صدر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مواقع پر مختلف وجوہات پیش کی گئی ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اس صورتحال کے جموں و کشمیر پر براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مقامی لوگ ایران میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ یہاں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو ان مسائل پر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ یہ براہ راست عوام سے جڑے ہوئے ہیں۔
ہندوستان کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے ساتھ سفارتی روابط ہیں، اور وزیر اعظم نریندر مودی کو چاہیے کہ وہ ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کیلئے کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے اور امن کی بحالی کیلئے نہایت ضروری ہے۔
ایران جنگ پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی مذمت، کشیدگی کم کرنے کیلئے مرکز سے کردار ادا کرنے کی اپیل