عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ خطے میں سرد پانی کی ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار طریقہ کار کو اپنانا ناگزیر ہے، تاکہ قدرتی وسائل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔سرینگر میں شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں منعقدہ نیشنل کانفرنس آن کولڈ واٹر فشریز سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو اس شعبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی تکنیکوں اور جدید طریقوں کی تلاش کے لیے تحقیق کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ اس شعبے کو نئی توانائی مل سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ماہی پروری کی ترقی پائیدار بنیادوں پر ہو، تاکہ میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام کا تحفظ ہو اور مچھلیوں کے ذخائر ختم نہ ہوں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس شعبے سے وابستہ افراد کی معاشی ترقی بھی حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے اور کوششیں اس بات پر مرکوز ہونی چاہئیں کہ مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافہ اور اس کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں درجہ حرارت میں اضافہ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ سرینگر میں فروری کے مہینے میں اتنی گرمیاں محسوس ہوں گی، حتیٰ کہ درختوں پر پھول بھی معمول سے بہت پہلے کھلنے لگے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پھولوں کے قبل از وقت کھلنے کے باعث اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن کو بھی معمول سے پہلے کھولنا پڑا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی قدرتی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ایسی تبدیلیاں سرد پانی کی ماہی پروری پر بھی اثر انداز ہوں گی، اس لیے ضروری ہے کہ جدید طریقہ کار اپنائے جائیں اور ملک کے دیگر علاقوں کے بہترین تجربات سے سیکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کا ایک صدی سے زیادہ پرانا تجربہ موجود ہے کیونکہ یہاں 1900 میں پہلی بار ٹراؤٹ متعارف کرائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے 126 سالہ تجربے کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہمیں اپنا تجربہ دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ دوسرے ریاستیں ہم سے بہتر کیا کر رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ موثر پالیسی اور خصوصی توجہ کے ذریعے بھارت دنیا کے بڑے مچھلی پیدا کرنے والے ممالک میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرے گا جبکہ جموں و کشمیر سرد پانی کی ماہی پروری میں ایک نمایاں مقام حاصل کرے گا۔انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پلیٹ فارم مختلف ریاستوں کے ماہرین کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس سے اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
ماحولیاتی تبدیلی کشمیر کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہی ہے: عمر عبداللہ