عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما اور پلوامہ کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے جمعہ کے روز کہا کہ میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے اپنے تصدیق شدہ ایکس (سابق ٹوئٹر) پروفائل سے آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کی شناخت ہٹانا امن کے مفاد میں کیا گیا ایک قدم ہے اور اسے ان کے خلاف ’’ہتھیار‘‘کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ وحید پرہ نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے میرواعظ نے سختی کے بجائے امن کو ترجیح دی ہے۔
اسلامی تاریخ سے ایک مثال دیتے ہوئے ایم ایل اے پلوامہ نے کہا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے امن کے خاطر ’’محمد رسول اللہ‘‘کے الفاظ مٹانے پر آمادگی ظاہر کی، جو کلمہ کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس فیصلے کو کمزوری نہیں بلکہ دانائی، دوراندیشی اور اخلاقی جرات کے طور پر یاد رکھتی ہے۔وحید پرہ نے کہا کہ میرواعظ پر اس فیصلے کے بعد تنقید اور ٹرولنگ کرنے والے عناصر جان بوجھ کر ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے غیر معمولی مشکلات کا سامنا کیا ہے اور ان کے والد نے عظیم قربانی دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا،اگر میرواعظ کشمیر نے اے پی ایچ سی کا ٹیگ امن کے لیے ہٹایا ہے تو اسے کبھی بھی ان کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ سختی کے بجائے امن کا انتخاب کمزوری نہیں بلکہ قیادت کی علامت ہے۔وحید پرہ نے کہا کہ میرواعظ نے قانون اور موجودہ حالات کے دائرے میں رہتے ہوئے قدم اٹھایا ہے۔ ان کے بقول،’’جو لوگ اس فیصلے پر ان پر حملے اور ٹرولنگ کر رہے ہیں، وہ جان بوجھ کر انہیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے حملے نہ تو انصاف کو فروغ دیتے ہیں اور نہ ہی امن کو، بلکہ صرف تقسیم کو گہرا کرتے ہیں۔
سختی کے بجائے امن کا انتخاب، میرواعظ کے فیصلے کو ’ہتھیار ‘نہ بنایا جائے: وحید پرہ