عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری اتل ڈلو نے آفات سے نمٹنے، بروقت ردِعمل اور نقصانات میں کمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ کا جائزہ لیا۔یہ منصوبہ محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، ری ہیبلی ٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن (DMRR&R) نے تیار کیا ہے، جس میں حالیہ شدید موسمی واقعات، آفات کے بعد کے جائزوں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور محکمہ موسمیات ہند (IMD) سمیت قومی اداروں سے مشاورت کے اسباق کو شامل کیا گیا ہے۔بدھ کے روز یہاں منعقدہ ایک میٹنگ میں اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے پیشگی کارروائی، ٹیکنالوجی پر مبنی ابتدائی وارننگ سسٹمز اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پر زور دیا۔ انہوں نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلانز (DDMPs) کو بروقت اپ ڈیٹ کریں اور تیاری و تخفیفِ نقصانات کے اقدامات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیں۔
تیاری کو آفات سے نمٹنے کی بنیاد قرار دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے تمام اضلاع کے لیے مانسون سے قبل تیاری کے اقدامات کو لازمی قرار دیا۔ یہ توجہ خاص طور پر سیلاب اور دیگر موسمی آفات پر مرکوز ہے، کیونکہ اپریل سے ستمبر کے دوران یونین ٹیریٹری میں ایسے واقعات کی شرح تاریخی طور پر زیادہ رہی ہے۔گزشتہ سال اگست میں کشتواڑ اور ریاسی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ، کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب کے باعث 100 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر یاتری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جبکہ 35 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق چیف سیکرٹری نے خاص طور پر مچھیل ماتا یاترا کے لیے RFID پر مبنی انتظامی نظام متعارف کرانے اور راستے میں ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر زور دیا۔ ڈلو نے شری ماتا ویشنو دیوی شرائن سمیت مختلف زیارت گاہوں پر مخصوص فرضی مشقیں (موک ایکسرسائز) کرانے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ہنگامی حالات میں بروقت اور مربوط ردِعمل یقینی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے حالیہ برف باری کے بعد برفانی تودوں کے خطرات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنروں کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی اور متاثرہ علاقوں میں سڑک رابطہ، پینے کے پانی اور بجلی کی فوری بحالی کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔
پرنسپل سیکرٹری DMRR&R چندراکر بھارتی نے موسم کی وارننگز کی آخری سطح تک ترسیل کو مضبوط بنانے اور SACHET ایپ جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے فروغ کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی اور سب ڈویژنل ایمرجنسی آپریشن سینٹرز (EOCs) کو بالخصوص دور دراز اور سرحدی علاقوں میں متبادل مواصلاتی نظام کے ساتھ فعال بنایا جانا چاہیے۔جائزے میں ردِعمل پر مبنی نظام سے ہٹ کر پیشگی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نقطۂ نظر کی طرف اسٹریٹجک تبدیلی کو اجاگر کیا گیا۔ زیادہ رش والے مواقع پر سلامتی بڑھانے کے لیے یاتریوں کی منظم رجسٹریشن، RFID کے ذریعے نگرانی اور یو ٹی و کور لیول پر مانسون سے قبل باقاعدہ رابطہ میٹنگز تجویز کی گئی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ منصوبے میں خراب موسم کے دوران نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے واضح معیاری عملی طریقۂ کار (SOPs) بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سول انتظامیہ، فوج، مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ایس ڈی آر ایف پر مشتمل مشترکہ کنٹرول رومز کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔انفراسٹرکچر سے متعلق اقدامات میں یاتری نواس کی تعمیر، ہیلی پیڈز کی میپنگ، طبی اور انجینئرنگ وسائل کی پیشگی تعیناتی اور سول ہیلی کاپٹروں کو ردِعمل کے نظام میں شامل کرنا شامل ہے۔ جائزے میں وادی مخصوص موسمی پیش گوئی، خودکار موسمیاتی اسٹیشنز (AWS) اور ہائی رسک علاقوں میں ڈوپلر ریڈارز کی تنصیب اور کٹے ہوئے علاقوں تک ضروری سامان پہنچانے کے لیے ڈرونز کے استعمال پر بھی زور دیا گیا۔
حالیہ سیلابوں کے دوران سامنے آنے والی خامیوں، جیسے مواصلاتی مسائل اور سیٹلائٹ فونز کی محدود دستیابی، کو مرحلہ وار دور کیا جا رہا ہے۔ روڈ میپ میں بی آر او، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف سمیت مختلف شراکت داروں کے کردار بھی واضح کیے گئے ہیں۔اہم اقدامات میں ہر سال جون میں ریاستی سطح کی موک ایکسرسائز، ڈی جی سی اے اور بھارتی فضائیہ کے ساتھ تال میل میں ڈرونز کے استعمال سے متعلق SOPs کی حتمی شکل دینا اور کمزور اضلاع میں تربیت یافتہ مقامی غوطہ خوروں کو شامل کرکے ’آپدا متر‘ پروگرام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
چیف سیکرٹری اتل ڈولو نے آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے روڈ میپ کا جائزہ لیا