محمد تسکین
بانہال/ضلع رام بن کے علاقے ڈگڈول کے نزدیک نالہ بشلری سے ہفتہ کے روز ایک 22 سالہ نوجوان کی لاش برآمد کی گئی، جو گزشتہ تقریباً 20 دنوں سے لاپتہ تھا۔
متوفی کی شناخت تنویر احمد چوپان ولد عبدالسلام چوپان ساکن مندکھل پوگل کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ 12 اپریل کو اس وقت لاپتہ ہوگیا تھا جب اس نے مبینہ طور پر اپنی جان بچانے کے لیے مکرکوٹ کے قریب جموں-سرینگر قومی شاہراہ پر نالے میں چھلانگ لگا دی تھی۔
ذرائع کے مطابق تنویر احمد جموں سے ایک دودھ دینے والی گائے اور دو بچھڑوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا کہ ڈگڈول کے قریب دو گاڑیوں میں سوار کچھ افراد نے مبینہ طور اس کا تعاقب کیا۔ جان کے خوف سے اس نے نالہ بشلری میں چھلانگ لگا دی، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا۔
واقعہ کے فوراً بعد پولیس اور مقامی رضاکاروں نے تلاشی مہم شروع کی، جس میں بعد ازاں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF)، فوج، کیو آر ٹی رام بن، ہمالین کیو آر ٹی، رامسو، کھڑی، این جی او بانہال والنٹیئرز، ریڈ کراس بانہال اور ڈوڈہ کی این جی او ابابیل نے بھی حصہ لیا۔ دشوار گزار علاقے اور تیز بہاؤ کے باوجود تلاش کا عمل مسلسل 20 دن تک جاری رہا۔
حکام نے بتایا کہ ہفتہ کے روز لاش ڈگڈول کے نزدیک نالے میں دیکھی گئی، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں نے اسے باہر نکالا۔ لاش کافی حد تک گل سڑ چکی تھی اور اسے قانونی و طبی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے اس سلسلے میں پہلے ہی مقدمہ درج کرکے چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن کی شناخت سریجیت سنگھ، سندیپ سنگھ، دگ وجے سنگھ اور کیول سنگھ ساکنان رام بن اور ملحقہ سیری علاقوں کے طور پر ہوئی ہے۔
معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی ایس ڈی پی او بانہال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاش ڈگڈول علاقے سے برآمد ہوئی ہے اور قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کی جا رہی ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر اس واقعہ کے بعد متوفی کے اہل خانہ میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ تعاقب اور ہراسانی کے باعث تنویر احمد کی موت واقع ہوئی، اور انہوں نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ساتھ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پوگل کے لاپتہ نوجوان کی نعش 20 دن بعد نالہ بشلری سے برآمد، ضلع بھر میں غم و غصے کی لہر