عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ کے معاملے پر تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے منگل کے روز نیشنل کانفرنس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت کا غصہ بے جا ہے اور یہ محض سیاسی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں کہا کہ این سی عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، جن میں سراج العلوم تنازعہ اور سرکاری ریکارڈ سے اردو زبان کو مبینہ طور پر ہٹانے جیسے معاملات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این سی کا راجیہ سبھا نتائج پر اظہار ناراضگی بے بنیاد ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ بنیادی طور پر راجیہ سبھا سے متعلق نہیں بلکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔
وحید پرہ نے حالیہ سیاسی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ این سی نے پی اے جی ڈی اتحاد کو کمزور کیا اور اسمبلی انتخابات کے دوران پی ڈی پی کو انڈیا اتحاد سے باہر رکھنے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں پی ڈی پی پر این سی کی مدد لازم نہیں تھی، اس کے باوجود پارٹی نے غیر مشروط حمایت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ راجیہ سبھا نتائج کا الزام پی ڈی پی پر ڈالنا غلط اور نقصان دہ ہے۔
پرہ نے مزید کہا کہ پارٹی صدر محبوبہ نے نہ ووٹنگ کے عمل سے کنارہ کشی اختیار کی اور نہ ہی کوئی شرط رکھی، حالانکہ انہیں این سی کے اندرونی اختلافات کا علم تھا۔
انہوں نے این سی کی پولنگ ایجنٹوں سے متعلق تنقید پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کے اہم فیصلوں کی ذمہ داری خود این سی پر عائد ہوتی ہے۔
وحید پرہ نے الزام لگایا کہ این سی اپوزیشن اتحاد کو کمزور کر رہی ہے اور پی ڈی پی کو نشانہ بنا کر بالواسطہ طور پر بھاجپا کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے عمرعبداللہ کی قیادت والی حکومت پر زور دیا کہ وہ راجیہ سبھا نشست پر الزام تراشی کے بجائے گورننس اور عوامی خدمات پر توجہ دے۔
واضح رہے کہ این سی نے ایک روز قبل محبوبہ مفتی اور پی ڈی پی ارکان اسمبلی سے عوامی طور پر حلف لینے کا مطالبہ کیا تھا کہ انہوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔
گزشتہ سال منعقدہ راجیہ سبھا انتخابات میں آٹھ ایسے ارکان اسمبلی، جنہوں نے این سی کی حمایت کا وعدہ کیا تھا، نے انداز میں ووٹ دیا جس سے بھاجپا کو ایک نشست حاصل کرنے میں مدد ملی۔