عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی کی ہاؤس کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کی تقسیم پر جاری تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے جمعرات کو کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جلد ایک اہم اجلاس منعقد کرے گی جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پارٹی ان کمیٹیوں کا بائیکاٹ کرے گی یا نہیں۔سنیل شرما نے کہا کہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کی تقسیم غیر منصفانہ ہے اور اس میں نیشنل کانفرنس اور اس کے اتحادیوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم فیصلہ کریں گے کہ آیا ہم کمیٹیوں کی کارروائی سے خود کو الگ رکھیں گے یا نہیں۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی کو نیشنل کانفرنس کا ہیڈکوارٹر بنایا جا رہا ہے اور اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے تاکہ وہ موجودہ ’’نااہل‘‘ حکومت کی ناکامیوں اور غلطیوں کو اجاگر نہ کر سکے۔سنیل شرما نے اسپیکر اسمبلی پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ متناسب نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’اسپیکر جمہوری اقدار کو کمزور کر رہے ہیں اور کھل کر حکمران اتحاد کا ساتھ دے رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کمیٹیوں کی چیئرمین شپ میں نہ ہونے کے برابر نمائندگی دینا جموں و کشمیر کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکمران اتحاد، جس کے پاس 54 اراکین اسمبلی ہیں، کو آٹھ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کیسے دی جا سکتی ہے، جبکہ 29 نشستوں والی بی جے پی کو صرف ایک چیئرمین شپ دی گئی۔ انہوں نے کہا، ’’جو لوگ اس فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں، انہیں حقائق کو اپنے مفاد کے مطابق موڑنے کے بجائے متناسب نمائندگی کے اصول کو پہلے سمجھنا چاہیے۔‘‘
اسمبلی کمیٹیوں کی تقسیم پر بی جے پی برہم، بائیکاٹ پر غورو خوض