عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/منوج سنہا نے جمعرات کو کشمیریونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو ’’مثبت تبدیلی کا ایک طاقتور ذریعہ‘‘ سمجھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بامعنی کردار ادا کریں۔
ایل جی نے وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان، اساتذہ اور طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس تقریب کو نسلوں کی تبدیلی اور جدید تعلیم پر عوام کے پختہ اعتماد کی علامت قرار دیا۔
خواتین کی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 249 طلائی تمغوں میں سے 186 طالبات کو دیے گئے، جبکہ 164 پی ایچ ڈی ڈگریوں میں سے 108 خواتین کے حصے میں آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب لڑکیوں کو موقع، حوصلہ افزائی اور آزادی دی جاتی ہے تو وہ صرف حصہ نہیں لیتیں بلکہ قیادت کرتی ہیں اور عمدگی کے نئے معیار قائم کرتی ہیں۔‘‘
ایل جی سنہا نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کشمیر کی بھرپور تہذیبی وراثت کا احترام کریں اور اسے آگے بڑھائیں، ساتھ ہی تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ انہوں نے ڈارون کے نظریۂ ارتقا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم، ٹیکنالوجی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ انسانی ذہانت کے متبادل کے طور پر۔ ’’اے آئی تحقیق، رہنمائی اور مسائل کے حل میں تیزی لا سکتی ہے۔ انھوں نے کہااپنی ڈگری خود ڈیزائن کریں،سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے۔
انہوں نے طلبہ کو ناکامی کو سیکھنے کا لازمی حصہ سمجھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اکثر ناکامیاں نئے مواقع اور راستے کھولتی ہیں۔
اخلاقیات اور اقدار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایل جی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال تعصب سے پاک اور معاشرے کی بھلائی کے لیے ہونا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے روایتی تعلیمی حدود کو توڑنے کی وکالت کرتے ہوئے انجینئرنگ کو علومِ انسانی اور حیاتیات کو معاشیات کے ساتھ جوڑنے جیسے بین الشعبہ جاتی امتزاج کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ جدید چیلنجز کا ہمہ گیر حل تلاش کیا جا سکے۔ ان کے مطابق تجسس، تخلیقی صلاحیت اور مطابقت مستقبل کے قائدین کی پہچان ہوں گے ۔
منوج سنہا کا کشمیر یونیورسٹی کے21یں کانووکیشن میں خطاب، طلبہ کو قوم سازی میں کردار ادا کرنے کی تلقین