عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/منگل کے روز سرینگر میں بڑی تعداد میں ایکریڈیٹڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹ (آشا) ورکرز نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آشا ورکر کا باقاعدہ درجہ دینے، کم از کم اجرت ایکٹ کے نفاذ اور اس معاوضے میں اضافے کا مطالبہ کیا جسے انہوں نے نہایت قلیل قرار دیا۔احتجاج کے دوران آشا ورکرز نے نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ صحت کے نظام میں اہم اور بنیادی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں، اس کے باوجود انہیں اجرت اور شناخت کے معاملے میں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار یقین دہانیوں کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے آشا ورکرز یونین کی صدر شاہینہ اختر نے کہا کہ آشا ورکرز آشا ورکر کے طور پر باقاعدہ تسلیم کیے جانے اور کم از کم اجرت ایکٹ کے تحت قانونی تحفظ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اعزازیہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
شاہینہ اختر نے کہا کہ آشا ورکرز ٹیکہ کاری مہمات، زچہ و بچہ کی صحت، بیماریوں کی نگرانی اور دیگر عوامی صحت کے پروگراموں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس کے باوجود ان کی مالی حالت اب بھی نازک ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے مطالبات کو نظر انداز کیے جانے کے بعد ورکرز سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئیں۔
احتجاجی آشا ورکرز نے کہا کہ موجودہ ادائیگیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کرنا مشکل ہو گیا ہے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اجرت میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور سماجی تحفظ کے فوائد بھی فراہم کیے جائیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ احتجاج پُرامن رہا، جبکہ مظاہرین نے حکام سے اپیل کی کہ بات چیت کا آغاز کیا جائے اور بغیر کسی تاخیر کے مسئلے کا حل نکالا جائے۔
سرینگر میں آشا ورکرز سراپا احتجاج:کم از کم اجرت ایکٹ نافذ کرنے اور معاوضہ بڑھانے کا مطالبہ