عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر مربوط فشریز ترقی کے میدان میں ایک قومی ماڈل کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ بھارت دنیا میں مچھلی پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں منعقدہ نیشنل کولڈ واٹر فشریز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس اہم کانفرنس کی میزبانی ہمارے لیے فخر اور خوشی کی بات ہے۔
انہوں نے سرینگر پہنچنے سے قبل مرکزی وزیر کی جانب سے اننت ناگ میں 100 کروڑ روپے کے فشریز کلسٹر کی منظوری دینے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی جموں و کشمیر کے تئیں مضبوط وابستگی کی علامت قرار دیا۔ایل جی نے کہا کہ فشریز کا شعبہ بھارت کی زرعی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کا زرعی جی ڈی پی میں تقریباً 7.3 فیصد حصہ ہے، جبکہ 2013-14 کے بعد سے اس شعبہ کی برآمدات دوگنا ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارت نے ڈیری کے شعبہ میں وائٹ ریولوشن کی قیادت کی، اسی طرح اب ملک کو دنیا کا سب سے بڑا مچھلی پیدا کرنے والا ملک بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔علاقائی ترقی کے حوالے سے انہوں نے ’’ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پلان (HADP)‘‘کے تحت حاصل کی گئی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار 2021-22 میں 1663 ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 2650 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں فشریز ترقی کے لیے تقریباً 27 ہزار ہیکٹر آبی وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ HADP کے تحت شروع کیے گئے 29 باہم مربوط منصوبے خطے کی جی ڈی پی میں زرعی اور متعلقہ شعبوں کے حصے کو دوگنا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ایل جی منوج سنہا نے فشریز کے شعبہ کو درپیش چیلنجز کا بھی ذکر کیا جن میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی قلت، مقامی اقسام کی سست رفتار افزائش اور مچھلیوں کی صحت کے مسائل شامل ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیےٹراؤٹ اور کارپ کی جینیاتی بہتری، موسمیاتی لحاظ سے مزاحم پیداوار کے نظام، آبی صحت کے بہتر انتظام اور مقامی فیڈ کی تیاری پر مبنی ایک سائنسی روڈ میپ تیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ تازہ مچھلی کو بلند پہاڑی علاقوں کے فارمز سے جلدی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ڈرون کے ذریعے نقل و حمل جیسے جدید طریقوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ خراب ہونے کے امکانات کم ہوں اور ترسیلی نظام بہتر بن سکے۔ایل جی نے مزید کہا کہ کوکرناگ میں ٹراؤٹ انٹیگریٹڈ ایکوا پارک قائم کیا جا رہا ہے جہاں تفریح، مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اس کے علاوہ نیشنل وژن 2030کے تحت ہمالیائی ریاستوں میں ٹراؤٹ اور مہاشیر مچھلی کی پیداوار دوگنا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کسان کریڈٹ کارڈ اور انشورنس اسکیموںکے ذریعے لاکھوں ماہی گیروں کو مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
آخر میں ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ اگر پیداوار کو کولڈ اسٹوریج، پراسیسنگ، پیکیجنگ اور برانڈنگ کے ساتھ جوڑا جائے تو جموں و کشمیر فشریز کے شعبہ میں قومی سطح پر ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ماہی گیروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
اننت ناگ میں 100 کروڑ کے فشریز کلسٹر کی منظوری، جموں و کشمیر میں ماہی پروری کو نئی رفتار: ایل جی سنہا