عظمیٰ ویب ڈیسک
کشتواڑ/جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے برف سے ڈھکے چھاتروبیلٹ میں جاری انسدادِ ملی ٹینسی کارروائی کو جمعہ کے روز مزید تیز کر دیا گیا ہے، جہاں سیکورٹی فورسز جیشِ محمد سے تعلق رکھنے والے تین ملی ٹینٹوں کو تلاش کر کے بے اثر بنانے میں مصروف ہیں۔حکام کے مطابق، جاری آپریشن کے دوران ملک دشمن عناصر کی جانب سے موبائل انٹرنیٹ کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے سنگھ پورہ، چنگام اور چھاترو کے علاقوں میں چھ کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر معطل رکھی گئی ہیں۔
یہ آپریشن 18 جنوری کو علاقے میں شروع کیا گیا تھا، جس کے دوران منڈرل-سنگھ پورہ کے قریب جنگل میں شدید جھڑپ ہوئی، جس میں ایک پیرا ٹروپر جاں بحق جبکہ سات فوجی زخمی ہو گئے تھے۔اگرچہ ملی ٹینٹ گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم سیکورٹی فورسز نے دو فٹ سے زائد برف باری کے باوجود ان کی تلاش جاری رکھی۔اس دوران 22 جنوری کو مالی دانا ٹاپ اور 25 جنوری کو جنسیر-کنڈیوار میں مزید دو مقابلے ہوئے، لیکن ملی ٹینٹ ایک بار پھر جنگل کے اندرونی حصوں میں چھپنے میں کامیاب ہو گئے۔
حکام نے بتایا کہ سنگھ پورہ، چنگام اور چھاترو میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کی معطلی میں 30 جنوری کی رات 11:59 بجے تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے جموں و کشمیر محکمہ داخلہ کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ مذکورہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز پہلی بار 23 جنوری کو معطل کی گئی تھیں۔ادھر پونچھ ضلع کے سرنکوٹ علاقے میں پجا موڑھ، نابنا ٹاپ اور ملحقہ علاقوں میں بھی دو مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ تاہم آخری اطلاعات تک مشتبہ افراد سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا، جبکہ آپریشن بدستور جاری ہے۔
کشتواڑ میں انسدادِ ملی ٹینسی کارروائی میں تیزی، موبائل انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل