عظمیٰ ویب ڈیسک
گروگرام/مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کے روز قومی ڈیجیٹل آئی ای ڈی ڈیٹا مینجمنٹ پلیٹ فارم کا افتتاح کیا، جسے انہوں نے ملی ٹینٹوں کے خلاف ’’اگلی نسل کی حفاظتی ڈھال‘‘اور ملک میں ہونے والی ہر قسم کی بم دھماکوں کے خلاف ایک جامع روک تھام قرار دیا۔
قومی آئی ای ڈی ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم (NIDMS) کو وفاقی انسدادِ ملی ٹیسٹ کمانڈو فورس نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) نے رشٹریہ رکشا یونیورسٹی (گاندھی نگر)، آئی آئی ٹی دہلی، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اور انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (I4C) کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔یہ پلیٹ فارم مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ ٹولز سے لیس ہے، جو ہر قسم کے بم دھماکوں کا ’’درست‘‘تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ملک میں آئی ای ڈی دھماکوں کو اندرونی سلامتی کے شعبے میں سب سے ’’چیلنجنگ‘‘خطرات میں شمار کیا گیا ہے، جن کے نتیجے میں برسوں کے دوران ہزاروں شہری اور سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور متعدد شدید زخمی ہوئے ہیں۔امیت شاہ نے اس سہولت کا افتتاح ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیا، جس کے ذریعے وہ یہاں مانسیر میں واقع نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) گیریژن میں قائم پلیٹ فارم سے جڑے۔
اپنے خطاب میں شاہ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم آئی ای ڈی دھماکوں کے لیے ‘ون نیشن ون ڈیٹا ریپوزٹری’ کے طور پر کام کرے گا، استغاثہ کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے گا کیونکہ اس سے فارنسک شواہد کا معیار بہتر ہوگا، اور بین الادارہ ہم آہنگی کو مضبوط بنائے گا۔این ایس جی کے ڈائریکٹر جنرل بریگو سرینیواسن نے کہا کہ این آئی ڈی ایم ایس ایک ’’رئل ٹائم‘‘ معلوماتی تبادلہ پلیٹ فارم ہے، جو انسدادِ ملی ٹینسی اور کاؤنٹر انسَر جنسی کے شعبے میں حکومتی ایجنسیوں کے لیے بم دھماکوں سے متعلق ڈیٹا جمع، تجزیہ اور تقسیم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ’’منفرد‘‘ہے، کیونکہ اس کی تیاری کے دوران 26 دوست ممالک سے رابطہ کیا گیا تھا اور ان میں سے کسی کے پاس ایسی سہولت موجود نہیں تھی۔این ایس جی کے مطابق، اس ڈیٹابیس کے 800 صارفین (مختلف ایجنسیاں) ہیں، اور یہ مختلف بم دھماکوں کے درمیان ‘سگنیچر لنکیجز’ کو بھی شناخت کر سکتا ہے، دھماکے کے بعد کی تفتیش میں مدد دے سکتا ہے، اور بعض دھماکوں کو روکنے کے لیے ’’پیشگی‘‘تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
یہ پرعزم منصوبہ کافی عرصے سے زیرِ تکمیل تھا اور این ایس جی کے نیشنل بم ڈیٹا سینٹر (NBDC) کا حصہ ہے، جو ملک میں ہونے والے ہر قسم کے بم دھماکوں کا تجزیہ کرتا ہے، اس کے علاوہ دنیا بھر میں ہونے والے بڑے دھماکوں کا بھی مطالعہ کرتا ہے۔سال 2000 میں قائم ہونے والا این بی ڈی سی 1999 سے اب تک ملک میں ہونے والے تمام بم دھماکوں کا ڈیٹا رکھتا ہے۔1984 میں قائم کی گئی این ایس جی کی ‘بلیک کیٹ’ کمانڈوز فورس کو مخصوص انسدادِ ملی ٹینسی اور کاؤنٹر ہائی جیکنگ آپریشنز انجام دینے کے ساتھ ساتھ منتخب اعلیٰ خطرے کے حامل وی آئی پیز کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
وزیر داخلہ امیت شاہ نے این ایس جی کے قومی آئی ای ڈی ڈیٹا پلیٹ فارم کا افتتاح کیا