عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی میں سینئر ڈاکٹروں کی رات کے اوقات میں عدم دستیابی سے متعلق خدشات کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے واضح کیا ہے کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں سینیئر اور ماہر ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر انتظامی و نگرانی کا نظام پہلے سے موجود ہے۔یہ جواب خاتون رکن اسمبلی شمیّمہ فردوس کے اُس سوال کے جواب میں دیا گیا جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ زیادہ تر سینئر ڈاکٹر رات کی شفٹوں میں دستیاب نہیں ہوتے، جس کے باعث جونیئر ڈاکٹرز کو ماہر مشورے کے بغیر مریضوں کا علاج کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کی جانب سے جمعرات کو اسمبلی میں پیش کیے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ رات کے اوقات میں بھی اسپتالوں میں سینیئر ڈاکٹروں کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے تمام اسپتالوں میں ڈے اور نائٹ شفٹ ڈیوٹی روٹر باقاعدہ تیار کیے جاتے ہیں، جو مریضوں کے بوجھ، ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر مرتب کیے جاتے ہیں۔جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈیوٹی شیڈول پہلے سے جاری کیے جاتے ہیں اور متعلقہ ڈاکٹروں کو اس کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے، جبکہ اس پر عمل درآمد کی نگرانی ضلعی صحت حکام اور اسپتال انتظامیہ کرتی ہے۔ کسی قسم کی غفلت پائی جانے کی صورت میں کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق سینیئر ڈاکٹر روزانہ اپنی او پی ڈی ذمہ داریاں انجام دینے کے بعد ایوننگ اور نائٹ شِفٹوں میں ’آن کال ڈیوٹی‘ پر رہتے ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری رہنمائی فراہم کی جاسکے۔حکومت نے مجموعی طور پر دعویٰ کیا کہ سینیئر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کا تاثر درست نہیں اور تمام اسپتالوں میں رات کے اوقات کی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھایا جارہا ہے۔
ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کا الزام بے بنیاد: سرکار