عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/قانون ساز اسمبلی میں پیر کے روز نجی ممبران کے بلوں کے لیے مختص دو دنوں میں سے پہلے دن 33 مجوزہ بل پیش کیے جانے ہیں، تاہم سب کی نظریں نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق کے اُس بل پر مرکوز ہیں جس میں موجودہ قابضین کی لیز میں توسیع کی مانگ کی گئی ہے۔
اس بل کو آج پیش کیے جانے والے نجی ممبر بلوں کی فہرست میں 12ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
جہاں دیگر نجی ممبر بلوں کو حکومت کی جانب سے مسترد کیے جانے یا متعلقہ اراکین کی جانب سے واپس لیے جانے کا امکان ہے، وہیں تنویر صادق کے بل پر حکومت کا مؤقف نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر گلمرگ کے ہوٹل مالکان کی لیز ختم ہونے کے تناظر میں۔
یہ بل جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز 2022 کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 2022 میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے متعارف کردہ ان قواعد کے تحت تمام لیزز—سوائے جاری یا ختم شدہ رہائشی لیزز کے—جن میں 1960 کے لینڈ گرانٹس رولز، 2007 کے نوٹیفائیڈ ایریا (سیاحتی شعبہ ترقیاتی ادارے) لینڈ گرانٹ رولز کے تحت دی گئی لیزز شامل ہیں، یا وہ لیزز جو ان قواعد کے نفاذ سے قبل ختم ہو چکی ہوں—ان کی تجدید نہیں کی جائے گی بلکہ انہیں ختم تصور کیا جائے گا۔
ان قواعد کے مطابق ایسی لیزز کو دوبارہ نیلامی کے ذریعے الاٹ کیا جائے گا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نجی ممبر بل عموماً ایوان میں منظور نہیں ہوتے کیونکہ قانون سازی کا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے، اور اپوزیشن اراکین کے بل زیادہ تر مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں نہ کہ ان کی منظوری کے لیے۔
اسمبلی میں آج اہم دن، گلمرگ لیز مسئلہ زیر بحث