عظمیٰ ویب ڈیسک
بارہمولہ/کشمیری پنڈت تقریباً 36 برس کے وقفے کے بعد ضلع بارہمولہ کے گاؤں کچوا میں واقع تاریخی گنیش مندر میں واپس لوٹ آئے، جہاں انہوں نے 1989 سے پہلے کی ایک قدیم روایت کو دوبارہ زندہ کیا۔
بارہمولہ قصبے سے تقریباً 15 کلومیٹر دور واقع اس مندر میں ماضی میں ہر سال 29 اور 30 اپریل کو بڑی مذہبی تقریبات منعقد ہوتی تھیں، جن میں مختلف برادریوں کے لوگ شریک ہوتے تھے۔ اس سال اس روایت کی بحالی ایک ہون (Havan) کے انعقاد سے ہوئی، جس میں عقیدت مندوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا_
اس موقع پر مقامی مسلم آبادی نے بھی بھرپور تعاون کیا اور اجتماع کو کامیاب بنانے میں حصہ لیا، جو علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی نئی مثال ہے۔ پنڈت برادری کے افراد نے اس موقع کو جذباتی قرار دیتے ہوئے اسے اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑنے کی علامت کہا۔
ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ، سید فخرالدین حمید نے مندر کے دوبارہ کھلنے کو معمول کی واپسی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ زمینی سطح پر اتحاد اور بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مسلم اور پنڈت دونوں برادریوں کو اس موقع پر مبارکباد دی اور کہا کہ ان کے باہمی تعاون سے یہ ممکن ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی لوگوں کی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن پر عمل کیا جائے گا۔ انتظامیہ مندر کے مقام پر یاتری نواس (Yatri Niwas) تعمیر کرنے اور مندر کی تزئین و آرائش کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ڈی سی نے یہ بھی کہا کہ کچوا کو زیارت اور مذہبی سیاحت کے مرکز کے طور پر فروغ دینے کی کوششیں کی جائیں گی۔
36 برس بعد کشمیری پنڈتوں کی بلا مندر واپسی، 1989 سے پہلے کی روایت بحال