عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو نے منگل کے روز رشوت طلب کرنے اور وصول کرنے کے تین الگ الگ مقدمات میں چار سرکاری اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان میں پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین، ایک پٹواری اور ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں ان شہریوں کی شکایات پر عمل میں آئیں جنہوں نے غیر قانونی رشوت دینے سے انکار کیا تھا۔ شکایات موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے خفیہ تصدیق کی اور منصوبہ بند کارروائی (ٹریپ) کے دوران ملزمان کو رشوت لیتے ہوئے پکڑ لیا۔
جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن بیورو نے آج رشوت طلب کرنے اور قبول کرنے کے الزام میں چار اہلکاروں کو گرفتار کیا۔ ان میں سے ایک مقدمہ پولیس اسٹیشن اے سی بی اُدھم پور جبکہ دو مقدمات پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں درج کیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق اے سی بی کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں الزام لگایا گیا کہ انیل جموال، جونیئر اسسٹنٹ (دفتر سپرنٹنڈنگ انجینئر پی ڈبلیو ڈی آر اینڈ بی اُدھم پور) اور جیت کمار، کمپیوٹر آپریٹر (دفتر ایگزیکٹو انجینئر پی ڈبلیو ڈی آر اینڈ بی اُدھم پور) نے کنٹریکٹر کارڈ جاری کرنے کے عوض شکایت کنندہ سے رشوت طلب کی۔ شکایت کنندہ نے رشوت دینے سے انکار کرتے ہوئے قانونی کارروائی کے لیے اے سی بی سے رجوع کیا۔
شکایت موصول ہونے پر خفیہ جانچ کی گئی جس میں رشوت کے مطالبے کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد ایف آئی آر نمبر 02/2026 زیر دفعہ 07 انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 اور دفعہ 61(2) بی این ایس 2023 کے تحت پولیس اسٹیشن اے سی بی اُدھم پور میں مقدمہ درج کیا گیا اور تفتیش شروع کی گئی۔
تفتیش کے دوران ڈپٹی ایس پی رینک افسر کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو آزاد گواہوں کی موجودگی میں 12 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ رشوت کی رقم بھی ملزمان کے قبضے سے برآمد کی گئی جبکہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں رام نگر اور لڈن پاور ہاؤس اُدھم پور میں تلاشی کارروائیاں بھی انجام دی گئیں۔
ایک اور مقدمے میں اے سی بی کو شکایت موصول ہوئی کہ اے ایس آئی زمردت مانہاس نے شکایت کنندہ کو پولیس اسٹیشن مینڈھر بلایا۔ یہ معاملہ عبدالقیوم کی جانب سے رقم واپس نہ کرنے کی شکایت سے متعلق تھا۔ شکایت کنندہ نے رقم واپس کرنے کے لیے وقت مانگا جس پر عبدالقयوم راضی ہو گیا، تاہم اس کے بعد اے ایس آئی زمردت مانہاس نے معاملہ نمٹانے کے لیے رشوت طلب کرنا شروع کر دی اور عدم ادائیگی کی صورت میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دی۔
چونکہ شکایت کنندہ غریب شخص تھا اور رشوت نہیں دینا چاہتا تھا، اس نے پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں تحریری شکایت درج کرائی۔ اس پر ایف آئی آر نمبر 01/2026 درج کی گئی۔ کارروائی کے دوران ٹیم نے اے ایس آئی زمردت مانہاس کو 5 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں ملزم کے رہائشی مقامات مینڈھر، سورنکوٹ اور جموں میں تلاشی کارروائیاں بھی کی گئیں۔
تیسرے مقدمے میں اے سی بی کو ایک تحریری شکایت موصول ہوئی جس میں الزام لگایا گیا کہ پٹواری محمد رزاق، پٹوار حلقہ سوکر/پروڑی، کوٹرنکہ نے شکایت کنندہ کی تین بیٹیوں کے نام ریونیو ریکارڈ میں درج کرنے کے عوض رشوت طلب کی۔ شکایت کنندہ نے رشوت دینے سے انکار کرتے ہوئے اے سی بی راجوری سے رجوع کیا۔
اس پر ایف آئی آر نمبر 02/2026 پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں درج کی گئی۔ بعد ازاں ٹیم نے محمد رزاق پٹواری کو 10 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ ملزم کے رہائشی مکان پر بھی تلاشی لی گئی۔اے سی بی کے مطابق تینوں مقدمات میں مزید تفتیش جاری ہے۔