عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے اینٹی کرپشن بیورو نے جمعہ کے روز بتایا کہ ضلع بارہمولہ کے علاقے اُوڑی میں تعینات ایک نائب تحصیلدار اور ایک پٹواری کے خلاف رشوت لینے کے الزام میں چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق ملزمان میں اس وقت کے نائب تحصیلدار اُوڑی، الطاف حسین خان، اور پٹواری حلقہ اُوڑی، پردیپ کمار شامل ہیں، جن پر ریونیو دستاویزات فراہم کرنے کے عوض رشوت طلب کرنے اور وصول کرنے کا الزام ہے۔
ترجمان اے سی بی کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 11 ستمبر 2023 کو اُوڑی کے ایک شہری نے شکایت درج کرائی کہ اس نے 10 مرلہ زمین خرید کر اس پر مکان تعمیر کیا تھا، تاہم فروخت کنندہ کے ساتھ تنازع کے باعث اسے ریونیو دستاویزات درکار تھیں۔ جب وہ تحصیل دفتر یوری پہنچا تو متعلقہ اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس سے 10 لاکھ روپے رشوت طلب کی، جو بعد میں کم ہو کر 1 لاکھ روپے طے پائی۔
شکایت کنندہ نے رشوت دینے سے انکار کرتے ہوئے اے سی بی پولیس اسٹیشن بارہمولہ سے رجوع کیا، جس پر تحقیقات کے بعد ایک جال بچھایا گیا۔ کارروائی کے دوران نائب تحصیلدار الطاف حسین خان کو رنگے ہاتھوں 50 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے رقم برآمد کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران دونوں ملزمان کا کردار ثابت ہوا ہے، جس میں پٹواری پردیپ کمار بھی شامل ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے اور حکومت جموں و کشمیر سے استغاثہ کی منظوری ملنے کے بعد اے سی بی نے دونوں ملزمان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعات 7 اور 12 کے تحت، نیز بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 61 کے تحت اسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ بارہمولہ میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔عدالت نے اس کیس کی آئندہ سماعت 2 مئی 2026 مقرر کی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ سال 2026 میں پولیس اسٹیشن اے سی بی بارہمولہ کی جانب سے دائر کی جانے والی ساتویں چارج شیٹ ہے۔
اے سی بی کی بڑی کارروائی: اُوڑی میں تعینات دو افسران کے خلاف چارج شیٹ داخل