عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ کے خصوصی دستے نے پیر کے روز ایک مبینہ بھتہ خور گروہ کے سلسلے میں سری نگر اور گاندربل اضلاع میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ اس گروہ نے ایک بزرگ شہری کو اپنا نشانہ بنا کر ان سے 30 لاکھ روپے سے زائد کی ٹھگی کی تھی۔حکام نے بتایا کہ یہ چھاپے بھارتیہ نیا? سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی ایف ا?ئی ا?ر کے سلسلے میں مارے گئے ہیں۔کرائم برانچ کے مطابق پکڑے گئے ملزمان ایک منظم گروہ کا حصہ تھے، جو مبینہ طور پر کرائم برانچ اور اینٹی کرپشن بیورو کے اعلیٰ افسران بن کر لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے تھے۔الزام ہے کہ ان دھوکے بازوں نے خود کو ان محکموں کا افسر بتا کر سری نگر کے ایک بزرگ شہری کو جھوٹی شکایتوں اور گرفتاری کا خوف دکھایا اور ان سے 30 لاکھ روپے سے زائد کی رقم اینٹھ لی۔
معاملے کی باریک بینی سے تفتیش کرتے ہوئے پولیس نے گاندربل کے رنگیل ناگ بل کے رہنے والے مبشر احمد یٹو عرف وانی، سری نگر کے خواجہ یاربل کے رہائشی نصیر مقبول بیچو، کلال دوری کے رہائشی مدثر صادق نجار اور الٰہی باغ کے باشندہ منیر احمد میر کے گھروں کی تلاشی لی۔حکام کے مطابق یہ معاملہ ایک منظم گروہ کی نشاندہی کرتا ہے، جو سرکاری افسران کا روپ دھار کر مالی دھوکہ دہی میں ملوث تھا۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس گروہ نے مزید لوگوں کو بھی نشانہ بنایا تھا اور آیا اس میں مزید افراد بھی شامل ہیں۔کرائم برانچ نے جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں یا سرکاری افسر ظاہر کرنے والے جعلسازوں سے ہوشیار رہیں۔ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ جعلی دستاویزات، فرضی شناخت یا من گھڑت مقدمات کے نام پر دھمکیاں دینے یا لالچ دینے والے کسی بھی شخص پر یقین نہ کریں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ دھوکہ دہی، جعلسازی، سائبر فراڈ، جعلی شناخت یا دیگر منظم جرائم سے متعلق کسی بھی واقعے کی فوری اطلاع قریبی پولیس تھانے یا کرائم برانچ کو دیں تاکہ بروقت قانونی کارروائی کی جا سکے۔