عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر //جموں و کشمیر کے سابق چیف سیکریٹری سید مظفر آغاپاکستان کے شہر لاہور کے علاقے گلبرگ میں اپنی صاحبزادی کی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 108 برس تھی۔سید مظفر آغا 1919میں سرینگر میں پیدا ہوئے۔ وہ مہاراجہ ہری سنگھ کے کونسل سیکریٹری صاحبزادہ آغا سید محمود رضوی کے بڑے صاحبزادے تھے، جبکہ معروف سماجی مصلح بیگم ظفر علی کے بھانجے تھے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم ٹنڈیل بسکو مشن سکول، فتح کدل، سرینگر سے حاصل کی۔ بعد ازاں ایس پی کالج سے گریجویشن کی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ ایک شاندار مقرر (ڈیبیٹر) کے طور پر بھی خاصی شہرت رکھتے تھے۔سید مظفر آغا نے 1943میں کشمیر سول سروس میں شمولیت اختیار کی اور مہاراجہ ہری سنگھ کے دورِ حکومت میں تحصیلدار اور وزیرِ وزارت کے عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے بعد انہیں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) میں شامل کیا گیا۔تقریباً چار دہائیوں پر محیط اپنے ممتاز سرکاری کیریئر کے دوران انہوں نے متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ 1947سے 1951تک جموں و کشمیر کے پہلے ٹرانسپورٹ کمشنر رہے۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنر، ڈائریکٹر انڈسٹریز، 1967سے 1969تک مالیاتی کمشنراور صنعت و تجارت، تعلیم، مال اور خزانہ جیسے اہم محکموں کے پرنسپل سیکریٹری بھی رہے۔1975سے 1978تک مرکزی حکومت میں خدمات انجام دیتے ہوئے وہ جمہوریہ جنوبی کوریا میں بھارت کے پہلے سفیر مقرر ہوئے۔ اس دوران انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے اور متعدد اہم معاہدوں کو عملی شکل دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وطن واپسی کے بعد وہ 1978سے 1980تک جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری رہے۔سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ اپنے صاحبزادے کے ساتھ رہنے کے لیے لندن منتقل ہوگئے۔ 1990کی دہائی میں صاحبزادے کے اچانک انتقال کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوگئے، جہاں وہ اپنی صاحبزادی کے ساتھ مقیم تھے۔ان کی اہلیہ صاحبزادی علیمہ بیگم کا انتقال 2012میں ہوا تھا۔ ان کے پسماندگان میں ایک صاحبزادی، حُما آغا، اور پوتے پوتیاں،نواسے، نواسیاں شامل ہیں۔ان کے چھوٹے بھائیوں میں مغربی پاکستان کے سابق چیف سیکریٹری سید افضل آغا اور لال منڈی، سرینگر کے سید جلال آغا شامل تھے۔آغا خاندان کے قزلباش وقف اینڈ ٹرسٹ کے سیکریٹری آغا فیصل علی نے سید مظفر آغا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا’’سید مظفر آغا کے انتقال کے ساتھ ہی ہمارے خاندان اور کشمیر کی تاریخ کا ایک غیر معمولی باب اختتام پذیر ہوگیا۔ انہوں نے مہاراجہ کے دورِ حکومت، آزاد بھارت اور بین الاقوامی سطح پر انتہائی دیانت داری، وقار اور لگن کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین‘‘۔