خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی: مرکزی وزیر
سرینگر//مرکزی وزیر برائے امورِ صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم پرہلاد جوشی نے ملک بھر کے ریستورانوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین سے لازمی سروس چارج وصول کرنا غیر قانونی ہے اور ایسے اداروں کے خلاف جرمانے سمیت سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سروس چارج مکمل طور پر رضاکارانہ ہے اور کسی بھی گاہک کو اسے ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ پرہلاد جوشی نے کہا کہ مرکزی صارف تحفظ اتھارٹی نے قومی صارف ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر ملک کے 41 ریستورانوں کے خلاف از خود کارروائی شروع کی ہے۔
ان ریستورانوں پر الزام ہے کہ انہوں نے صارفین کی رضامندی کے بغیر بلوں میں خودکار طور پر سروس چارج شامل کیا، جو صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی اور غیر منصفانہ تجارتی عمل ہے۔ وزیر نے کہا کہ ریستوران اگر سروس چارج کو لازمی قرار دیتے ہیں، بل میں خود بخود شامل کرتے ہیں یا صارف کے کہنے کے باوجود اسے ہٹانے سے انکار کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو مالی جرمانوں کے ساتھ ساتھ اپنی ساکھ کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ صارف اگر بہتر خدمات پر خوش ہو تو اپنی مرضی سے ٹپ یا سروس چارج ادا کر سکتا ہے، تاہم اسے لازمی قرار دینا یا انکار کی صورت میں خدمات سے محروم کرنا قانوناً درست نہیں ہے۔ اگر کسی ریستوران میں زبردستی سروس چارج وصول کیا جائے تو صارف قومی صارف ہیلپ لائن پر شکایت درج کرا سکتا ہے۔