عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/سابق ایم ایل سی اور مہاراجہ ہری سنگھ کے پوتے وکرمادتیہ سنگھ نے سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز کے حالیہ بیان کو ’’تاریخی طور پر غلط، غیر دانشمندانہ اور غیر ضروری‘‘قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ایک پریس ریلیز میں وکرمادتیہ سنگھ نے کہا کہ پروفیسر سوز نے حال ہی میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جموں و کشمیر نے بھارت کے ساتھ الحاق اس لیے کیا کیونکہ ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی نے ایسا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ الحاقِ جموں و کشمیر کو مذہبی شناخت یا اکثریتی آبادی کے تناظر میں پیش کرنا نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس آئینی عمل کو بھی کمزور کرتا ہے جس کے تحت 560 سے زائد نوابی ریاستوں نے بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا۔
وکرمادتیہ سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا الحاق مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ ریاست کے خودمختار حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے قانونی طور پر دستخط شدہ ’’انسٹرومنٹ آف ایکسیشن‘‘(Instrument of Accession) کے ذریعے عمل میں آیا، جیسا کہ دیگر نوابی ریاستوں کے معاملے میں بھی ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس تاریخی حقیقت کو بدلنے کی کوشش عوام میں الجھن پیدا کرنے اور باخبر عوامی مباحثے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ہمیشہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا۔ان کے مطابق ’’تمام مذاہب میرے ہیں اور میرا مذہب انصاف ہے‘‘ مہاراجہ کا اصول تھا۔وکرمادتیہ سنگھ نے خبردار کیا کہ اس قسم کی بیان بازی ایسے وقت میں پرانے اختلافات کو دوبارہ ہوا دے سکتی ہے جب جموں و کشمیر کے عوام کو استحکام، ترقی اور جمہوری طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے جموں و کشمیر کے باشندے خوش قسمت ہیں کہ وہ بھارت کا حصہ ہیں اور انہیں آئینی حقوق، مواقع اور جمہوری تحفظات حاصل ہیں۔ان کے مطابق بھارت کے جمہوری اداروں نے عوام کو منتخب حکومت فراہم کی ہے، جسے ریاستی درجے کی بحالی سے قطع نظر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مذہبی شناختوں کی بنیاد پر نئے اختلافات پیدا کرنے کے بجائے نوجوان نسل کے محفوظ، خوشحال اور بامقصد مستقبل پر توجہ دیں، جو بھارتی آئین کے دائرے میں ممکن ہے۔
ڈوگرہ شاہی خاندان کے چشم و چراغ وکرمادتیہ سنگھ نے کہا کہ تاریخ سیاسی سہولت کا معاملہ نہیں۔ جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق مہاراجہ ہری سنگھ کے ایک دستاویزی اور آئینی اقدام پر مبنی ہے۔ حقائق کو سیاسی بیانیے پر فوقیت ملنی چاہیے۔ چونکہ میرا خاندان اس تاریخی باب سے براہِ راست وابستہ رہا ہے، اس لیے میں تاریخی حقیقت اور اس آئینی ورثے کے دفاع کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہوں گا جس نے جموں و کشمیر کو بھارتی یونین کے ساتھ جوڑا۔
الحاقِ جموں و کشمیر سے متعلق پروفیسر سوز کے ریمارکس تاریخی طور پر غلط ہیں: وکرمادتیہ سنگھ