عظمیٰ نیوز سروس
جموں// بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر نے نیشنل کانفرنس حکومت کی مبینہ ناکامیوں کے خلاف ایک مرحلہ وار عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق اس سلسلے میں 20 جولائی کو وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا، جبکہ یکم اگست سے جموں خطے میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوگا، جس کے بعد تحریک کو ضلع اور اسمبلی حلقہ سطح تک وسعت دی جائے گی۔یہ فیصلہ بی جے پی کے ریاستی دفتر تریکوٹہ نگر، جموں میں منعقدہ ایک روزہ تنظیمی اجلاس میں کیا گیا، جس میں پارٹی کے ریاستی عہدیداروں، ضلع انچارجوں، ضلعی صدور، مورچہ صدور، ترجمانوں اور دیگر سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس سے بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمان ست شرما، قائد حزب اختلاف سنیل شرما اور جنرل سیکریٹری (تنظیم) اشوک کول نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جنرل سیکریٹریز سنجیتا ڈوگرا، بلدیو سنگھ بلاوریا اور گوپال مہاجن بھی موجود تھے۔
اجلاس کی کارروائی بلدیو سنگھ بلاوریا نے چلائی جبکہ شکریہ کی قرارداد سنجیتا ڈوگرا نے پیش کی۔اپنے خطاب میں ست شرما نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی یہ تحریک عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور حکومت کو جوابدہ بنانے کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوامی رابطہ مہم کے ذریعے حکومت کی مبینہ ناکامیوں کو عوام کے سامنے لائے گی۔قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ بی جے پی نے حکومت کو کارکردگی دکھانے کے لیے مناسب وقت دیا، تاہم ان کے مطابق حکومت عوامی مسائل کے حل میں ناکام رہی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی اسمبلی کے اندر اور باہر حکومت کا جمہوری انداز میں احتساب کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلا بڑا احتجاج 20 جولائی کو کشمیر میں منعقد ہوگا، جبکہ یکم اگست سے جموں بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، جسے بعد ازاں ہر ضلع اور اسمبلی حلقے تک توسیع دی جائے گی۔اشوک کول نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنائیں اور احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کارکنوں کو آئندہ تنظیمی پروگراموں سے بھی آگاہ کیا اور ہدایت دی کہ پارٹی کی سرگرمیوں اور عوامی مہمات کو نچلی سطح تک منظم انداز میں پہنچایا جائے۔