عظمیٰ ویب ڈیسک
بڈگام/نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے چچا مرحوم مصطفیٰ کمال کی وفات پر تعزیت کے دوران دیے گئے اپنے بیان پر اٹھنے والے تنازع کے بعد کہا کہ وہ تنقید کے باوجود جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل اور حقوق کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔بڈگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ نےکہا کہ ان کے بیانات کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں اور عوام کو درپیش حل طلب مسائل کے بارے میں تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیان سے صرف اس لیے کسی کو دکھ پہنچا کہ وہ تعزیتی موقع پر دیا گیا تھا، تو وہ اس کے وقت پر معذرت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا، اگر کچھ رہنماؤں کو محسوس ہوا کہ سوگ کے ماحول میں اس طرح کی بات کرنا مناسب نہیں تھا تو میں اس کے وقت پر معذرت کرتا ہوں۔ ایک یا دو دن احتراماً خاموش رہا جا سکتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی عوام کے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ میں عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا رہوں گا۔آغا روح اللہ نے کہا کہ مرحوم مصطفیٰ کمال ان کے قریبی تھے اور وہ ان کے سیاسی نظریات سے بخوبی واقف تھے۔
انہوں نے کہا، میں جانتا ہوں کہ مصطفیٰ کمال صاحب کس نظریے کے حامل تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی روح کو اس بات سے سکون ملے گا کہ میں عوام کی آواز اٹھاتے ہوئے جماعت کے نظریے کو آگے بڑھا رہا ہوں۔ذاتی غم اور عوامی تکالیف کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح ہر شخص اپنے گھر کے غم کو محسوس کرتا ہے، اسی طرح کشمیری عوام کی دہائیوں پر محیط مشکلات کو بھی اسی حساسیت سے دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، جس طرح ہر کوئی اپنے گھر کے غم کو محسوس کرتا ہے، اسی طرح کشمیری عوام کے درد کو کون محسوس کرے گا؟ گزشتہ 70 برسوں سے عوام مشکلات اور ناانصافیوں کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے درد کو بھی وہی اہمیت اور احساس ملنا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کے اس بیان پر کہ’’جو واقعی جموں و کشمیر کی فکر رکھتے ہیں وہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہمارے ساتھ ہوں گے‘‘ ردعمل دیتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ انہیں پہلے عوام سے مینڈیٹ حاصل کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا،پہلے عوام سے مینڈیٹ حاصل کریں، پھر یہ طے کریں کہ آیا انہیں ان معاملات پر بات کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ اس کے بعد ہی ایسے بیانات دینے چاہییں۔
آغا روح اللہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بجلی کے نرخوں میں نظرثانی، تعمیراتی اجازت ناموں میں تاخیر اور دیگر عوامی مسائل سمیت ہر اہم معاملے پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ وعدے ہیں جو اسمبلی انتخابات سے قبل عوام سے کیے گئے تھے، اس لیے ان کے مسائل اور شکایات کا ازالہ ہونا ضروری ہے۔
تعزیتی موقع پر سیاسی بیان دینے پر تنازع: آغاروح اللہ کا حکومت پر پلٹ وار کہا کشمیری عوام کے حقوق کی آواز اٹھاتا رہوں گا