عظمیٰ ویب ڈیسک
پونچھ/جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہا ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد پارٹی اپنی تنظیم کو زمینی سطح پر دوبارہ مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ انہوں نے نیشنل کانفرنس حکومت کو ترقیاتی کاموں، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
پیر پنجال خطے کے پانچ روزہ دورے کے دوران پونچھ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ انتخابات کے بعد پارٹی نے جان بوجھ کر چھ سے آٹھ ماہ تک سیاسی سرگرمیوں سے گریز کیا تاکہ نئی حکومت کو کام کرنے کا موقع مل سکے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں کشمیر میں تنظیم کو مستحکم کیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں جموں خطے میں تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سرنکوٹ، راجوری، مینڈھر اور پونچھ کا دورہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پونچھ کا دورہ ان کے لیے مایوس کن ثابت ہوا کیونکہ دو سال گزرنے کے باوجود عوامی مسائل میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔ بخاری کے مطابق پہلے جو سڑکیں قابل آمدورفت تھیں وہ اب خستہ حال ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی بند ہونے کے باعث پائپ تک زنگ آلود ہو چکے ہیں۔
تعلیمی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تقسیم انتہائی غیر متوازن ہے۔ ان کے مطابق بعض اسکولوں میں چند طلبہ پر کئی اساتذہ تعینات ہیں جبکہ دیگر اسکولوں میں درجنوں طلبہ کے لیے صرف ایک استاد موجود ہے، جو افسوسناک صورتحال ہے۔
الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دلانا اپنی پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قیام کے دن سے ہی ریاستی درجہ بحال کرانے، زمین اور ملازمتوں کے تحفظ اور مضبوط ڈومیسائل قانون کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ 15 سالہ ڈومیسائل شرط ناکافی ہے اور اسے 50 سال تک بڑھانے کے ساتھ آئینی تحفظ دیا جانا چاہیے تاکہ مقامی نوجوانوں کو روزگار میں ترجیح مل سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان مطالبات کا علیحدگی پسندی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مقصد جموں و کشمیر کی ثقافت، زمین، شناخت اور ورثے کا تحفظ ہے۔
مرکزی حکومت کی صنعتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ 28 ہزار کروڑ روپے کے صنعتی پیکیج کا بڑا حصہ بیرونی سرمایہ کاروں کو ملا، جبکہ مقامی نوجوان روزگار سے محروم رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صنعتوں میں مقامی افراد کے بجائے باہر سے مزدور اور تکنیکی عملہ لایا جا رہا ہے۔کان کنی کی پالیسی پر بھی انہوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ریت اور بجری کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں اور مقامی افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے، جبکہ بڑے بیرونی ٹھیکیدار قدرتی وسائل سے بے تحاشا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا فیصلہ حکومت ہند کا اختیار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان امن قائم ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ جموں و کشمیر کو ہوگا۔انہوں نے آپریشن سندورسے متاثرہ سرحدی علاقوں کے متاثرین کے لیے مکمل معاوضے اور بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کیے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔
آؤٹ سورسنگ کے ذریعے بھرتیوں پر تنقید کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ حکومت کو عارضی ملازمتوں کے بجائے مستقل تقرریاں کرنی چاہئیں تاکہ نوجوانوں کو روزگار کا تحفظ حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر ترقیاتی منصوبے مکمل ہوتے ہیں تو انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ اس کا سیاسی کریڈٹ کوئی بھی لے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بیشتر منصوبے ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
2024 کے پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے بخاری نے اعتراف کیا کہ بعض جماعتوں کی حمایت قبول کرنا ایک سیاسی غلطی تھی اور یہ تجربہ ناکام ثابت ہوا، جسے دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین (ڈیلی ویجرز) کو مزید تاخیر کے بغیر مستقل کیا جائے، کیونکہ اس سلسلے میں تمام ضروری کارروائیاں پہلے ہی مکمل ہو چکی ہیں اور صرف حکومتی احکامات جاری کرنے کی ضرورت ہے۔
الطاف بخاری کا اپنی پارٹی کو زمینی سطح پر مضبوط بنانے کا اعلان، ریاستی درجہ بحالی کو بنیادی ایجنڈا قرار دیا