صائمہ مقبول
قبرستان میں تو صرف انسانوں کے جسم دفن ہوتے ہیں مگر اس دنیا میں ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘کے خوف تلے روزانہ نہ جانے کتنے خواب کتنی خواہشیں اور کتنے حوصلے زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی کے اصل مالک بننے کے بجائے ان لوگوں کی رائے کے اسیر بن جاتے ہیں جنہیں ہماری زندگی کے فیصلوں سے کوئی حقیقی سروکار نہیں ہوتا۔
’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ یہ صرف چار الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسا خوف ہے جس نے نہ جانے کتنی خواہشوں کو دفن کیا کتنے خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیا اور کتنے انسانوں کو اپنی مرضی سے جینے نہیں دیا۔ بچپن سے ہی ہمیں سکھا دیا جاتا ہے کہ ایسا مت کرو ویسا مت کرو لوگ کیا کہیں گے۔ آہستہ آہستہ ہم اپنی خوشیوں خواہشوں اور خوابوں سے زیادہ لوگوں کی رائے کو اہم سمجھنے لگتے ہیں اور یوں اپنی ہی زندگی میں اجنبی بن جاتے ہیں۔ ہم اپنی پسند کے کپڑے پہننے سے پہلے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے قدم بڑھانے سے پہلے اور اپنے دل کی بات کہنے سے پہلے بھی یہی سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔
ہمارے معاشرے میں تعلیم، پیشہ، لباس، رہن سہن اور یہاں تک کہ شادی جیسے اہم فیصلے بھی اکثر لوگ کیا کہیں گے کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ کسی کے پاس مالی استطاعت نہ ہونے کے باوجود وہ قرض لے کر بڑی دعوت کرتا ہے مہنگے کپڑے خریدتا ہے اور فضول رسومات نبھاتا ہے صرف اس لیے کہ اگر سادگی اختیار کی تو لوگ کیا کہیں گے۔ کتنے ہی نوجوان اپنی پسند کا شعبہ نہیں چنتے اور کتنی ہی لڑکیاں اپنے خوابوں کی قربانی دے دیتی ہیں کیونکہ معاشرہ ان کے فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی اپنے لیے کم اور دوسروں کی خوشنودی کے لیے زیادہ جیتے ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کے ڈر سے ہم اپنی زندگی کے فیصلے بدل دیتے ہیں وہ نہ ہمارے غم بانٹتے ہیں نہ ہمارے قرض ادا کرتے ہیں اور نہ ہی ہماری ناکامیوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم گر جائیں تو یہی لوگ تماشائی بن جاتے ہیں اور اگر ہم کامیاب ہو جائیں تو ہماری کامیابی میں بھی خامیاں تلاش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی زبانوں کو کبھی خاموش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ لوگ ہر حال میں کچھ نہ کچھ کہتے ہی رہتے ہیں۔آپ خاموش رہیں تو لوگ کہیں گے مغرور ہے آپ بولیں تو بھی لوگ کہیں گے زبان بے قابو ہے۔آپ کامیاب ہوں تو بھی تبصرے ہوں گے اور ناکام ہوں تو بھی۔
میں بھی پہلے یہی سوچتی تھی کہ اگر میں ایسا کروں تو لوگ کیا سوچیں گے اور اگر ویسا کروں تو لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف میرا مسئلہ نہیں بلکہ ہر انسان اکثر اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر وہ اپنی مرضی کا راستہ چنے گا تو لوگ کیا کہیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کا تو کام ہی تبصرہ کرنا ہے۔ آپ چاہے اپنی زندگی کے بہترین فیصلے کریں یا اپنی راہ الگ چنیں لوگ ہر حال میں کچھ نہ کچھ کہتے ہی ہیں۔ اکثر انسان اپنے بارے میں ایسی باتیں سن کر حیران رہ جاتا ہے جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اسے تب یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگوں کی فرضی رائے کو اہمیت دینا صرف وقت کا ضیاع ہے۔ جب ہمیں اپنا حساب اپنے رب کو دینا ہے تو پھر ہم لوگوں کو جواب دہ کیوں بنیں ؟
یہی سوچ کر میں خود سے سوال کرتی ہوں کہ آخر میں لوگوں کو جواب دہ کیوں بنوں جب کہ مجھے حساب اپنے رب کو دینا ہے لوگوں کو نہیں۔ لوگ ہمیں اپنے معیار اپنی سوچ اور اپنے محدود نظریے سے پرکھتے ہیں لیکن میں کیوں اپنی زندگی ان کے معیار کے مطابق گزاروں جس نے جو سمجھنا ہے وہ سمجھے جس نے جو کہنا ہے وہ کہے مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ مجھے فکر صرف اس بات کی ہونی چاہیے کہ میں اپنے رب کے سامنے کیسی ہوں میری قبر کیسی ہوگی اور کیا میں روزِ محشر اپنے مالک کے سامنے سرخرو ہو سکوں گی۔ لوگوں کے ساتھ جتنی بھی بھلائی کر لو اکثر بدلے میں فریب ہی ملتا ہے۔اس لیے کیوں نہ لوگوں کی خوشنودی کے بجائے اپنے رب سے وفا کی جائے کیونکہ اسی کی رضا میں اصل سکون اور کامیابی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،’’جو اللہ کی رضا کے لیے لوگوں کی ناراضی برداشت کر لیتا ہے اللہ اسے لوگوں کے شر سے بچا لیتا ہے۔‘‘ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی لوگوں کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے گزارنی چاہیے۔ اللہ ہمارے مال لباس اور ظاہری شان و شوکت کو نہیں بلکہ ہمارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے مگر افسوس کہ ہم نے لوگوں کی نظروں کو اللہ کی نظر سے زیادہ اہم بنا لیا ہے۔ حالانکہ لوگوں کی رائے بدلتی رہتی ہے لیکن اللہ کی رضا ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے اور اسے دوسروں کے خوف میں گزار دینا اپنے آپ پر سب سے بڑا ظلم ہے۔ اپنے خوابوں کو صرف اس لیے مت ماریے کہ لوگ ہنسیں گے اور اپنی صلاحیتوں کو صرف اس لیے مت چھپائیے کہ لوگ تنقید کریں گے۔ یاد رکھیے لوگ تو تب بھی کچھ کہیں گے جب ہم زندہ ہوں گے اور تب بھی کچھ کہیں گے جب ہم اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ اس لیے اپنی زندگی لوگوں کی آوازوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے ضمیر کے سکون اپنی خوشی اور اللہ کی رضا کے لیے جینا سیکھیں کیونکہ جو لوگ اپنی زندگی دوسروں کی رائے کے مطابق گزارتے ہیں وہ اکثر اپنی خواہشوں کی قبر پر کھڑے رہ جاتے ہیں۔