جاوید اقبال
مینڈھر// سب ڈویژن مینڈھر میں ایک سرجن اسپیشلسٹ پر مریضہ کو مبینہ طور پر نجی ہسپتال منتقل کرنے، طبی غفلت برتنے اور غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ قصبہ مینڈھر کے رہائشی اواس سبحانی نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔اواس سبحانی نے بتایا کہ ان کی والدہ کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر انہیں فوری طور پر سب ضلع ہسپتال مینڈھر لے جایا گیا، جہاں موجود سرجن اسپیشلسٹ ڈاکٹر مکیش کمار نے معائنہ کرنے کے بعد آپریشن کا مشورہ دیا۔ ان کا الزام ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر نے انہیں راجوری کے ایک نجی ہسپتال ’ارتھومیکس‘جانے کا مشورہ دیا، جہاں ان کی والدہ کا آپریشن کیا گیا اور اس کے عوض تقریباً 48 ہزار روپے وصول کیے گئے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق آپریشن کے چند ہی روز بعد مریضہ شدید انفیکشن کا شکار ہو گئیں، جس کے بعد مسلسل علاج کے باوجود ان کی صحت میں بہتری نہیں آئی بلکہ حالت مزید بگڑتی چلی گئی۔ اواس سبحانی کا کہنا ہے کہ جب والدہ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگی تو متعلقہ ڈاکٹر نے معائنہ کرنا بھی بند کر دیا، جس پر اہل خانہ نے انہیں مزید علاج کے لیے شفاء ہسپتال سری نگر منتقل کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شفاء ہسپتال سری نگر میں ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ شدید انفیکشن کے باعث دوبارہ آپریشن ناگزیر ہے، جس کے بعد مریضہ کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ اواس سبحانی کے مطابق گزشتہ 19 ماہ سے ان کی والدہ کا مسلسل علاج جاری ہے اور اس دوران علاج پر 10 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے لوگوں سے قرض لینے پر مجبور ہیں۔اواس سبحانی نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ، چیف میڈیکل آفیسر پونچھ اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ متعلقہ ڈاکٹر مبینہ طور پر مینڈھر سے مریضوں کو راجوری کے نجی ہسپتال منتقل کرتے ہیں، جس سے مریضوں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے اور بعد میں انہیں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر چیف میڈیکل آفیسر پونچھ ڈاکٹر پرویز احمد خان نے بتایا کہ انہیں ابھی اس معاملے کی مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ خاندان کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوتی ہے تو پورے معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے گی اور تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔