سمت بھارگو
راجوری// وائٹ نائٹ کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے پیر کے روز راجوری اور پونچھ اضلاع میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور اندرونی علاقوں کا تفصیلی دورہ کرکے موجودہ سیکورٹی صورتحال اور فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔فوجی ذرائع کے مطابق یہ دورہ فوج کی وائٹ نائٹ کور کی آپریشنل ریڈی نیس مشقوں کے سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس کا مقصد سرحدی اور اندرونی علاقوں میں تعینات فارمیشنز کی تیاری، نگرانی کے نظام اور مجموعی دفاعی انتظامات کا جائزہ لینا تھا۔اس دوران لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے ایس آف اسپیڈس ڈویژن اور کاؤنٹر انسرجنسی فورس رومیو کے مختلف آپریشنل مقامات کا دورہ کیا، جہاں انہیں موجودہ سیکورٹی صورتحال، تعیناتیوں اور آپریشنل تیاریوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
دورے کے دوران کور کمانڈر نے مختلف مقامات پر تعینات فوجی اہلکاروں سے ملاقات بھی کی اور ان کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے جوانوں کی مستعدی اور مسلسل نگرانی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے تمام رینکس کی غیر معمولی چوکسی، آپریشنل مہارت اور محفوظ و مستحکم ماحول برقرار رکھنے کے لیے ان کی مستقل وابستگی کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے سیکورٹی منظرنامے کے پیش نظر ہر سطح پر مکمل تیاری اور جدید صلاحیتوں کا فروغ ناگزیر ہے۔دورے کے موقع پر کور کمانڈر نے کاؤنٹر انسرجنسی فورس رومیو کے ہیڈکوارٹر میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس کی بھی صدارت کی۔ اجلاس میں ایس آف اسپیڈس ڈویژن اور کاؤنٹر انسرجنسی فورس رومیو کے جنرل آفیسرز کمانڈنگ (جی او سیز) نے انہیں آپریشنل تیاریوں، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، نگرانی کے جدید نظام، پریسیڑن اسٹرائیک صلاحیتوں اور مستقبل کے جنگی تقاضوں سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں موجودہ سیکورٹی ماحول کے تناظر میں مختلف آپریشنل پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور سرحدی علاقوں میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے مطابق تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔فوجی حکام کے مطابق اس نوعیت کے دوروں کا مقصد زمینی صورتحال کا براہ راست جائزہ لینا، آپریشنل تیاریوں کو مزید مؤثر بنانا اور سرحدی علاقوں میں تعینات اہلکاروں کا حوصلہ بڑھانا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔