عظمیٰ نیوز سروس
اجوری //اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری اور سینئر نائب صدر غلام حسن میر، جو ان دنوں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں پیر پنجال خطے دورے پر ہیں، نے منگل کے روز راجوری میں منعقدہ کارکنان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے برسراقتدار نیشنل کانفرنس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پر ناکامیوں اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے۔ اس موقع پر پارٹی کے صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ، اور ضلع صدر راجوری سید منظور بخاری سمیت متعدد سینئر رہنماؤں نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔ یہ تقریب راجوری کے ڈاک بنگلہ میں منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب کا اہتمام سید منظور بخاری نے کیا تھا۔اپنے خطاب میں سید محمد الطاف بخاری نے حکمران نیشنل کانفرنس کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں مؤثر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانے اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے جیسی اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے حکومت جھوٹے وعدوں اور جذباتی نعروں کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکمران جماعت کے ہتھکنڈوں کا بار بار شکار نہ بنیں اور اسے واضح پیغام دیں کہ اب بہت ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ترقیاتی کام مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ متعدد علاقوں میں آج بھی لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ سرکار اسکولوں میں واش رومز کی سہولت تک موجود نہیں۔ اس کے باوجود حکومت کو ان بنیادی مسائل کی کوئی فکر نہیں۔ اس کے برعکس وہ اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انہیں جذباتی نعروں میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے۔‘‘
سید محمد الطاف بخاری نے عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ بی جے پی اور نیشنل کانفرنس جیسی جماعتوں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کے باوجود متحد رہیں۔ انہوں نے کہا، ’’انتخابات کے دوران بی جے پی نے جموں میں ہندو ووٹروں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا، جس کے نتیجے میں مسلمان ووٹر نیشنل کانفرنس کے حق میں منقسم ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے یہاں پہلے کبھی ایسے حالات نہیں رہے۔ مختلف مذاہب اور برادریوں کا تنوع ہی جموں و کشمیر کی شناخت اور یہاں کے لوگوں کی انفرادیت ہے۔ ہمیں سیاسی جماعتوں کی اشتعال انگیزی کے باوجود، جو سیاسی فائدے کے لیے عوام کو تقسیم کرتی ہیں، ہر قیمت پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا چاہیے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اگست 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد ہر شخص کو خدشہ تھا کہ جموں و کشمیر اپنی ڈیموگرافی کھو دے گا۔ اپنی پارٹی کے لیڈران دہلی گئے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم، وزیر داخلہ سمیت مرکزی حکومت کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے زمین اور سرکاری ملازمتوں پر خصوصی حقوق برقرار رکھے جائیں۔ اس معاملے پر مرکز کو قائل کرنے میں ہمیں تین ماہ سے زائد کا عرصہ لگا۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اسی دوران ہم نے تقریباً 3,200 قیدیوں کی رہائی بھی یقینی بنائی۔ پارٹی کے قیام کے فوراً بعد یہ اپنی پارٹی کا ایک کلیدی کنٹری بیوشن تھا۔‘‘سید محمد الطاف بخاری نے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ نئی دہلی کو جموں و کشمیر کے عوام، بالخصوص نوجوانوں، کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ ان کے مسائل اور شکایات کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔انہوں نے پیر پنجال خطے کے مختلف علاقوں میں عوام کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’اس خطے کے متعدد علاقوں کے لوگ مناسب سڑک رابطوں، آبپاشی کی سہولیات، قابلِ اعتماد بجلی، صاف پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں ترقی کا واضح فقدان نظر آتا ہے، اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اقتدار میں رہنے والوں نے عوام کے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے اقتدار حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ عوام کے جذبات کا استحصال کیا ہے۔‘‘اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے غلام حسن میر نے نیشنل کانفرنس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے ہمیشہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے عوام سے جھوٹ بولا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ان کا ہمیشہ سے یہی طرزِ عمل رہا ہے۔ یاد کریں کہ انہوں نے نام نہاد ’رائے شماری‘ کے نام پر جدوجہد کا دعویٰ کیا اور بائیس برس تک یہی مہم جاری رکھی۔ اس دوران سینکڑوں عام کشمیری نوجوان جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ مگر آخرکار نیشنل کانفرنس نے اقتدار کے لیے سمجھوتہ کر لیا اور اپنی نام نہاد رائے شماری تحریک کو ترک کر دیا۔ اسی طرح اس جماعت نے طویل عرصے تک اقتدار حاصل کرنے کے لیے عوام کا استحصال کیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’رائے شماری کے مسئلے کانام پر استحصال کرنے کے بعد اس جماعت نے نام نہاد ’اٹانومی‘ کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ حالیہ برسوں میں اس نے عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ وہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو بحال کرے گی۔ اسی طرح یہ جماعت مسلسل عوام کو گمراہ کرتی رہی ہے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے انہیں جھوٹے خواب دکھاتی رہی ہے۔‘‘دلی میں جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کے مجوزہ دھرنے کے بارے میں غلام حسن میر نے کہا، ’’ہر شخص چاہتا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس ملے۔ تاہم اپنی پارٹی کا ماننا ہے کہ یہ مقصد نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ کہ محاذ آرائی کی سیاست کے ذریعے۔ نیشنل کانفرنس دانستہ طور پر تصادم کا راستہ اختیار کر رہی ہے تاکہ عوام کو اشتعال دلایا جائے اور اپنی ناکامیوں اور ان وعدوں سے توجہ ہٹائی جا سکے جنہیں وہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘‘غلام حسن میر نے کہا کہ جموں و کشمیر کو جامع ترقی اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر میں جامع اور منصوبہ بند ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک نیشنل کانفرنس اقتدار میں رہے گی، بامعنی ترقی محض ایک خواب ہی رہے گی۔ اس جماعت کا ریکارڈ گواہ ہے کہ جب بھی یہ اقتدار میں رہی، جموں و کشمیر ترقیاتی پسماندگی کا شکار رہا۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے برعکس جب بھی نیشنل کانفرنس اقتدار سے باہر رہی، ترقیاتی منصوبوں پر نمایاں کام ہوا۔ یہ حقیقت پیر پنجال سمیت جموں و کشمیر کے ہر خطے پر صادق آتی ہے۔ لہٰذا اگر عوام ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام چاہتے ہیں تو انہیں اس حکومت سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ یہ جماعت صرف جذباتی اور گمراہ کن نعروں کے ذریعے عوام کا استحصال کرنا جانتی ہے۔ یہ نہ کبھی مؤثر طرزِ حکمرانی فراہم کر سکی ہے اور نہ ہی اب ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو درپیش مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غلام حسن میر نے کہا، ’’بدقسمتی سے ایک طویل عرصے سے گمراہ کن پالیسیوں اور جھوٹے بیانیوں نے ہمارے نوجوانوں کو ایسے راستے پر ڈال دیا جس کا انجام یا تو قبرستان تھا یا جیل۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تشدد اور بندوق کی سیاست کا شکار بنی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اپنی پارٹی ہمارے نوجوانوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور جدوجہد کرے گی۔ ہمارے نوجوانوں کو بے روزگاری کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں روزگار کے وافر مواقع میسر ہونے چاہئیں تاکہ وہ عزت، وقار اور امید کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔‘‘اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے منجیت سنگھ نے کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی کو مضبوط بنائیں تاکہ وہ اپنے عوام دوست ایجنڈے اور پالیسیوں پر عمل درآمد کر سکے۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اپنی سیاسی اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کریں، عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور پارٹی کے عوام دوست ایجنڈے اور پالیسیوں سے لوگوں کو آگاہ کریں۔اس موقع پر پارٹی کے ضلع صدر سید منظور بخاری نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے عوام روایتی سیاسی جماعتوں اور اْن کے رہنماؤں کی فریب پر مبنی سیاست اور سیاسی شعبدہ بازی سے تنگ آ چکے ہیں۔ عوام اب بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران کیے گئے جھوٹے وعدوں کے ذریعے انہیں ایک بار پھر گمراہ کیا گیا۔‘‘ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں آنے والے پنچایتی اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات کی تیاری ابھی سے شروع کریں۔اس موقع پر سید محمد الطاف بخاری، غلام حسن میر اور منجیت سنگھ کے علاوہ پارٹی کے جو دیگر سرکردہ رہنما اور سینئر کارکنان موجود تھے، ان میں پیر پنجال کے کوآرڈینیٹر ارون شرما، ایس ٹی اسٹیٹ صدر سلیم چوہدری، ضلع صدر راجوری سید منظور بخاری، ایس سی ونگ کے ریاستی صدر بودھ راج بھگت، کسان ونگ کے ریاستی صدر بدری ناتھ شرما، ضلع صدر (دیہی) راجوری وکی سودان، ضلع نائب صدر راجوری شبیر چوہدری، یوتھ صدر راجوری عرفان انجم، صوبائی سیکریٹری یوتھ ریاض احمد اور دیگر لیڈران شامل تھے، موجود تھے۔