جاوید اقبال
مینڈھر// سب ضلع ہسپتال مینڈھر کی اراضی پر مبینہ ناجائز قبضوں کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق ہسپتال کے نام 18 کنال 6 مرلے اراضی درج ہے، جبکہ زمینی سطح پر صرف 13 کنال 13 مرلے زمین ہی دستیاب ہے۔ اس طرح تقریباً 4 کنال 13 مرلے اراضی کے فرق نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور مقامی لوگوں نے اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق سب ضلع ہسپتال مینڈھر نہ صرف اس پورے خطے کا ایک اہم طبی ادارہ ہے بلکہ سرحدی علاقوں کے ہزاروں شہری علاج و معالجے کے لیے اسی ہسپتال پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ہسپتال کی توسیع، نئی عمارتوں کی تعمیر، پارکنگ، ایمرجنسی بلاک اور دیگر طبی سہولیات کے لیے وسیع اراضی کی ضرورت ہوگی، لیکن اگر ہسپتال کی زمین پر ناجائز قبضے برقرار رہے تو ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔عوامی نمائندوں اور مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ ہسپتال کی بعض اراضی پر اردگرد کے چند افراد نے مبینہ طور پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، جس کے باعث سرکاری اراضی سکڑتی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ریونیو ریکارڈ اور زمینی حقیقت میں فرق موجود ہے تو اس کی فوری جانچ ہونی چاہیے تاکہ اصل صورتحال عوام کے سامنے آ سکے۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ، محکمہ ریونیو اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جدید پیمائشی نظام اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ہسپتال کی پوری اراضی کی ازسرنو پیمائش کرائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی شخص کا ناجائز قبضہ ثابت ہوتا ہے تو قانون کے مطابق فوری کارروائی کرتے ہوئے سرکاری اراضی واگزار کرائی جائے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری اداروں کی زمین عوامی اثاثہ ہوتی ہے، جس کا تحفظ حکومت اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ ہسپتال کی توسیع کے لیے درکار زمین دستیاب نہیں رہے گی۔شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل شفافیت کے ساتھ تحقیقات کی جائیں اور اگر ریکارڈ میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا اراضی پر ناجائز قبضہ سامنے آتا ہے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری املاک کا تحفظ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، اس لیے کسی بھی بااثر شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ خبر درج کیے جانے تک اس معاملے پر ضلع انتظامیہ یا متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم مقامی عوام کو امید ہے کہ انتظامیہ اس حساس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر حقائق سامنے لائے گی اور اگر کوئی بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ہسپتال کی اراضی کو واگزار کرا کے عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔