رمیش کیسر
نوشہرہ//سب ڈویژن نوشہرہ کے ڈھندیشور گاؤں میں پینے کے صاف پانی کا دیرینہ مسئلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ گاؤں میں پانی کی غیر یقینی فراہمی کے باعث روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جبکہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے بارہا یقین دہانیوں کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ڈھندیشور گاؤں میں آزادی کے بعد سے ہی پینے کے پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مختلف اوقات میں کئی منصوبے شروع کیے گئے، لیکن آج تک کوئی بھی اسکیم عوام کو مستقل بنیادوں پر صاف پانی فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔مقامی سماجی کارکن ستپال شرما نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے اہم منصوبے جل جیون مشن کے تحت بھی دندیشور گاؤں کے رہائشیوں کو مطلوبہ فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ ان کے مطابق جب بھی محکمہ جل شکتی کے افسران یا ملازمین سے پانی کی عدم دستیابی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کم وولٹیج، پمپوں اور موٹروں کی خرابی یا دیگر تکنیکی مسائل کا حوالہ دے کر ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوام کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے ہر سال محکمہ جل شکتی پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود زمینی سطح پر صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔ ستپال شرما نے الزام لگایا کہ محکمہ کے بعض افسران اور ملازمین مبینہ طور پر ترقیاتی کاموں میں کمیشن خوری کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث سرکاری منصوبوں کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ رہے اور عوام بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔گاؤں کے دیگر مکینوں نے بتایا کہ پانی کی قلت کے باعث خواتین، بزرگوں اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ لوگوں کو دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے، جبکہ گرمی کے موسم میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی عدم دستیابی صحت عامہ کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔مقامی باشندوں نے لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر، وزیر جل شکتی اور چیف انجینئر جل شکتی محکمہ جموں سے اپیل کی ہے کہ ڈھندیشور گاؤں کے برسوں پرانے پانی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور ذمہ دار افسران سے جواب طلبی کی جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولت میسر آ سکے۔اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر محکمہ جل شکتی کے ایگزیکٹیو انجینئر نے بتایا کہ وہ فوری طور پر اپنے ماتحت افسران سے تفصیلی رپورٹ طلب کریں گے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ دندیشور گاؤں میں پانی کی فراہمی میں رکاوٹ کی اصل وجہ کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مسئلہ سامنے آنے کے بعد اسے جلد از جلد حل کرنے اور گاؤں میں پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اب یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات اور مستقل حل کے منتظر ہیں۔