عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) کشمیر نے 2013 کے ہائیگام، سوپور حملہ کیس میں کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کے نامزد ملی ٹینٹ امتیاز احمد کنڈو عرف فیاض عرف سجاد کے خلاف انٹرپول کا ریڈ کارنر نوٹس حاصل کر لیا ہے۔
ایس آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اس ریڈ کارنر نوٹس کے ذریعے بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزم کا سراغ لگانے، اسے حراست میں لینے اور بھارت کے حوالے کرنے (ایکسٹریڈیشن) کی قانونی کارروائی شروع کرنے میں مدد ملے گی تاکہ وہ عدالت میں مقدمے کا سامنا کر سکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ 23 اپریل 2013 کو سوپور کے پیر محلہ، ہائیگام میں پولیس پارٹی پر ہونے والے حملے سے متعلق ہے، جس میں جموں و کشمیر پولیس کے چار اہلکارجاں بحق ہوئے تھے۔
یہ مقدمہ ابتدا میں پولیس اسٹیشن ترزو، سوپور میں درج کیا گیا تھا، تاہم سال 2024 میں جامع تحقیقات کے لیے اسے ایس آئی اے کشمیر کے سپرد کر دیا گیا۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایس آئی اے نے نئے شواہد کی بنیاد پر مزید دفعات شامل کرتے ہوئے جولائی 2024 میں مجاز عدالت میں چھ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
بیان کے مطابق تحقیقات اور بعد ازاں کارروائیوں کے دوران دو ملزمان طارق احمد میر ساکن کالا آباد، ہندواڑہ اور قیوم نذیر ساکن بٹہ پورہ، سوپور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں مارے گئے، جبکہ جاوید احمد متو (سوپور)، رؤف نذیر (سوپور) اور احمد اللہ ملا (دلال محلہ، سری نگر) گرفتار کیے جا چکے ہیں اور ان کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
ایس آئی اے کے مطابق اس کیس کا مرکزی ملزم امتیاز احمد کنڈو تاحال مفرور ہے اور شبہ ہے کہ وہ پاکستان فرار ہو چکا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امتیاز احمد کنڈو سن 2010 سے کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کا سرگرم رکن اور کمانڈر رہا ہے۔ ملی ٹینسی سرگرمیوں میں مسلسل ملوث رہنے کے باعث حکومت ہند نے اکتوبر 2022 میں اسے نامزد انفرادی ملی ٹینٹ قرار دیا تھا۔
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہائیگام حملے میں امتیاز احمد کنڈو کا مرکزی کردار تھا اور وہ ملی ٹینسی کے ایک وسیع نیٹ ورک میں بھی ملوث رہا ہے۔ ایس آئی اے کے مطابق وہ اس مقدمے کے علاوہ کم از کم دس دیگر ملی ٹینسی سے متعلق مقدمات میں بھی مطلوب ہے، جن میں ملی ٹینٹ حملے، ٹارگٹ کلنگ، جن میں 15 سے زائد افراد کی ہلاکتیں ہوئیں، اسلحہ و گولہ بارود کی اسمگلنگ اور نارکو ٹیرر فنڈنگ جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
ایس آئی اے کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششوں کے باوجود امتیاز احمد کنڈو اب تک گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔
2013 کے ہائیگام حملہ کیس میں حزب المجاہدین کے مطلوب ملی ٹینٹ کے خلاف انٹرپول کا ریڈ کارنر نوٹس جاری