عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر بداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنا بی جے پی کی حکومت سے مشروط نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور اگر بی جے پی کی یہی پالیسی ہے تو وہ کھل کر اعلان کرے کہ جب تک جموں و کشمیر میں بی جے پی کی حکومت قائم نہیں ہوتی، ریاستی درجہ بحال نہیں کیا جائے گا۔
سرینگر کے حضرت بل میں اپنی دادی بیگم اکبر جہاں عبداللہ (مادرِ مہربان) کی 26ویں برسی کے موقع پر نیشنل کانفرنس کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے اعلان کیا کہ پارٹی 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کو لے کر پرامن احتجاج کرے گی۔
انہوں نے بیگم اکبر جہاں عبداللہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی سیاست کے انتہائی مشکل ادوار میں بھی صبر، استقامت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کبھی اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں۔
ریاستی درجہ کی بحالی میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ گزشتہ تقریباً دو برس سے محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے، مگر اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ احتجاج ناگزیر ہو چکا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس کو توڑنے کی کوششیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق جموں سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے ایک رکن اسمبلی کو پارٹی چھوڑنے کے عوض 20 سے 30 کروڑ روپے، وزارت اور ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ کیا گیا، لیکن ضمیر کو خریدنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے متعلق سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے خود سپریم کورٹ کے سامنے تین مراحل پر مشتمل روڈ میپ پیش کیا تھا، جس میں حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن)، اسمبلی انتخابات اور اس کے بعد ریاستی درجہ کی بحالی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندی مکمل ہو چکی، انتخابات بھی منعقد ہوئے اور عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا، پھر بھی ریاستی درجہ کیوں بحال نہیں کیا جا رہا؟
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ حلقہ بندی کا عمل سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا تاکہ بی جے پی کو فائدہ پہنچایا جا سکے، مگر عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے نہ صرف بی جے پی بلکہ اس کے اتحادیوں کو بھی مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر تمام بڑے فیصلے راج بھون سے ہی ہونے ہیں، ملازمین کی برطرفی سمیت اہم اختیارات منتخب حکومت کے بجائے وہاں استعمال کیے جائیں گے، تو پھر انتخابات کرانے کا مقصد کیا تھا۔
لداخ کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک طرف مرکز وہاں آئینی تحفظات پر بات چیت کر رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر کو اب تک ریاستی درجہ بھی واپس نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ اور دیگر مرکزی وزراء کے ساتھ ہر ملاقات میں ریاستی درجہ کی بحالی کا معاملہ اٹھایا، لیکن ہر بار صرف یہی کہا گیا کہ “مناسب وقت” پر فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر وہ مناسب وقت کب آئےگا؟
عمر عبداللہ نے بی جے پی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کی حکومت بننے تک ریاستی درجہ بحال نہیں ہوگا تو اسے عوام کے سامنے واضح طور پر اس کا اعلان کرناچاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ان کی دادی نے انہیں یہ سبق دیا تھا کہ صبر کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور اس کا واحد مطالبہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دلانا ہے۔