عظمیٰ ویب ڈیسک
وشاکھاپٹنم/بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت (AI) اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم جنگوں میں کامیابی کا فیصلہ اب بھی قومی عزم، تربیت یافتہ فوجیوں اور مضبوط عسکری طاقت ہی کرے گی۔وشاکھاپٹنم میں بھارتی بحریہ کے جدید اسٹیلتھ جنگی جہاز ’’آئی این ایس مہندرگیری‘‘کی کمیشننگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز اور روایتی عسکری پلیٹ فارمز ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگرچہ مستقبل کی جنگوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھے گا، لیکن قومی عزم، پیشہ ور فوجیوں اور مضبوط فوجی صلاحیت کے بغیر فتح ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے جنگی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں ضرور پیدا کی ہیں، تاہم اس سے روایتی جنگی صلاحیتوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بنیادی اصولوں کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے مضبوط روایتی عسکری صلاحیت آج بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی ماضی میں تھی۔وزیر دفاع نے بتایا کہ ’’آئی این ایس مہندرگیری‘‘، پروجیکٹ 17A نلگری کلاس اسٹیلتھ فریگیٹ پروگرام کا چھٹا جنگی جہاز ہے اورمزاگون ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (MDL)کی جانب سے تیار کیے گئے چار جنگی جہازوں کی اس سیریز کا آخری جہاز ہے۔ انہوں نے اسے پروجیکٹ 17A کا ’’تاج کا آخری نگینہ‘‘قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ شپ یارڈ آئندہ بھی اسی معیار کے جدید جنگی جہاز تیار کرتا رہے گا۔
راجناتھ سنگھ نے یاد دلایا کہ اس سے قبل آئی این ایس نلگری جنوری 2025، آئی این ایس ادے گیری اور آئی این ایس ہم گیری اگست 2025، آئی این ایس تاراگیری اپریل 2026 اور آئی این ایس دوناگیری جون 2026 میں بھارتی بحریہ میں شامل کیے جا چکے ہیں، جبکہ اب آئی این ایس مہندرگیری بھی بحری بیڑے کا حصہ بن گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی این ایس مہندرگیری کا مکمل وزن تقریباً 6,670 ٹن ہے، یہ 28 ناٹ تک رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک جدید ملٹی مشن اسٹیلتھ فریگیٹ کے طور پر فضائی خطرات، دشمن کے سطحی جنگی جہازوں اور آبدوزوں کا بیک وقت مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزیر دفاع نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آندھرا پردیش دفاعی اور ایرو اسپیس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھارت کا ایک نیا مضبوط مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔