سکینہ ایتو کاکشمیر کے 5 اسمبلی حلقوں کے ترقیاتی مسائل کا جائزہ
سرینگر//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور سکولی تعلیم سکینہ اِیتو نے کل خانصاحب، حضرت بل، پانپور، سوپور اور زینہ پورہ اسمبلی حلقوں میں ترقیاتی مسائل اور عوامی خدمات کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ممبران قانون ساز اسمبلی حسنین مسعودی، سلمان علی ساگر، شوکت حسین گنائی، سیف الدین بٹ اور اِرشاد رسول کارسمیت دیگر متعلقین نے شرکت کی۔وزیر موصوفہ نے صحت کے بنیادی ڈھانچے، سکولی تعلیم، سماجی بہبود اور جاری ترقیاتی کاموں سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ عوامی شکایات کے فوری اَزالے اور منظور شدہ تمام منصوبوں پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے صحت و طبی تعلیم کے شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے تمام حلقوں میں طبی سہولیات کو مزیدمضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ چوبیس گھنٹے سہولیات کے طور پرنشاندہی شدہ پرائمری ہیلتھ سینٹروں کوچلانے ، زیر اِلتوا ٔبنیادی ڈھانچے کے کام مکمل کرنے، ایمبولینس خدمات کو بہتربنانے، میڈیکل بلاکوںکی میپنگ شروع کرنے اورپروجیکٹ کی تکمیل میں جوابدہی کو یقینی بنائیں۔وزیر موصوفہ نے ٹراما سینٹر میں سی ٹی سکین خدمات سمیت تشخیصی سہولیات میں اضافے پر بھی زور دیا جبکہ غیر محفوظ طبی عمارتوں کی از سر نو تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے کہاکہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈِی پی آرز) میں غیر مجاز تبدیلیوں کے لئے ذِمہ دار پائے جانے والے کسی بھی آفیسر کے خلاف ضروری کارروائی شروع کی جائے۔ اُنہوں نے ٹینڈرنگ کے عمل میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ کم تخمینہ ٹینڈرنگ کی حوصلہ شکنی کریں جبکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹھیکیدار معیار اور ٹائم لائنز پر عمل پیرا ہوں۔وزیر تعلیم نے سکولی تعلیم کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران کو سکولوں کی اَپ گریڈیشن میں تیزی لانے ، بنیادی ڈھانچے کی کمیوںکو دور کرنے اور تمام تعلیمی اِداروں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کی ہدایت دِی۔اُنہوں نے سماجی بہبود کے شعبے میں مختلف مرکزی اور یوٹی سطح کی فلاحی سکیموں کے تحت عوامی رَسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ بڑے پیمانے پر بیداری کیمپ منعقد کئے جائیں تاکہ لوگوں کو سکیموں سے متعلق مکمل معلومات فراہم ہو سکیں اور تمام اہل مستحقین تک فوائد پہنچ سکیں۔اُنہوں نے ممبران اسمبلی سے بات چیت کرتے ہوئے یقین دِلایا کہ میٹنگ میں اُٹھائے گئے تمام جائز مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ منتخب نمائندوں کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھیں تاکہ عوامی مسائل کا بروقت حل اور ترقیاتی اَقدامات کا مؤثر نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔