عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کو کہا کہ جموں و کشمیر اپنی اہم جغرافیائی حیثیت کی بدولت جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم تجارتی اور سفارتی راہداری (گیٹ وے) بن سکتا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی سمت میں اقدامات کرے۔ سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور مختلف ممالک اپنی جغرافیائی حیثیت کو قومی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھی ایک نہایت اہم محل وقوع رکھتا ہے، جسے امن، تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعے کا میدان بنانے کے بجائے امن کا پل بنایا جانا چاہیے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سڑکیں کھلیں، عوامی روابط بحال ہوں اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔محبوبہ مفتی نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے اس قول کا حوالہ بھی دیا کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں لیکن ہمسائے نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت اور پاکستان کے پاس تعلقات بہتر بنانے کا ایک سنہری موقع موجود ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف کو فوج کی حمایت حاصل ہے جبکہ بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی مضبوط سیاسی پوزیشن رکھتے ہیں، اس لیے دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے مثبت پیش رفت کر سکتے ہیں۔پی ڈی پی صدر نے جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم (سارک) کو دوبارہ فعال کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس تنظیم میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور جموں و کشمیر کو سارک ممالک کے درمیان اقتصادی اور ثقافتی تعاون کی ایک عملی مثال بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سارک کے رکن ممالک جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کریں تاکہ خطے کی معیشت کو تقویت مل سکے۔سابق وزیر اعلیٰ نے 2019 میں آرٹیکل 370 اورآرٹیکل 35A کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس اقدام سے خطے کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آج بھی لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور حکومت کو پائیدار امن کے لیے عوامی اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔