بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر کے بجلی شعبے میں جاری اصلاحات، بڑھتی ہوئی طلب، خریداری لاگت میں اضافے اور مالی استحکام کے تقاضوں کے درمیان مشترکہ بجلی انضباطی کمیشن(جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن ) نے جموں و کشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے دائر مختلف ٹیرف درخواستوں پر 8 جولائی کو عوامی سماعت منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔سرکاری نوٹس کے مطابق یہ سماعت مالی سال 2024-25کے منظور شدہ اور حقیقی اخراجات و آمدنی کا حتمی مالیاتی تصفیہ،مالی سال 2025-26کے سالانہ کارکردگی جائزہ،مالی سال 2026-27سے 2028-29تک کے کثیر سالہ بجلی نرخ(ملٹی ایئر ٹیرف ) اور مالی سال 2026-27کیلئے پن بجلی گھروں کی پیدوارٹیرف تجاویز سے متعلق ہوگی۔ اس کے علاوہ کمیشن مالی سال2017-18سے2020-21کے زیر التوا منظور شدہ اور حقیقی اخراجات و آمدنی کا حتمی مالیاتی تصفیہ معاملات پر بھی غور کرے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جموں و کشمیر کا بجلی شعبہ مالی خسارے میں کمی، ترسیلی و تقسیم کاری نظام کی مضبوطی، لائن نقصانات میں کمی اور صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی کیلئے متعدد اصلاحاتی اقدامات سے گزر رہا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق درخواست نمبر 15 آف 2025 کے تحت عوامی سماعت بدھ، 8 جولائی 2026، دوپہر 2 بجے سے جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کے کانفرنس ہال جموں میں منعقد ہوگی۔کمیشن نے ان تمام صارفین، اعتراض کنندگان، صنعتی نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقین کو سماعت میں شرکت کی دعوت دی ہے جنہوں نے مقررہ مدت کے اندر اپنی تجاویز یا اعتراضات جمع کرائے ہیں، تاکہ وہ کمیشن کے روبرو اپنا مؤقف پیش کر سکیں۔
بجلی شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس عوامی سماعت کے بعد جاری ہونے والے ریگولیٹری احکامات نہ صرف جے کے ایس پی ڈی سی ایل کے پن بجلی منصوبوں کے ٹیرف کا تعین کریں گے بلکہ جموں و کشمیر کے بجلی شعبے کی آئندہ مالی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور ریگولیٹری سمت پر بھی اہم اثرات مرتب کریں گے۔جموں و کشمیر میں بجلی صارفین کی نظریں ’جے ای آر سی‘ کی اس عوامی سماعت پر مرکوز ہے کیونکہ کمیشن کے فیصلوں کا اثر مستقبل میں بجلی کے نرخوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی مالی حالت اور بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ سماعت کا مقصد فوری طور پر بجلی نرخوں میں اضافہ یا کمی کرنا نہیں، تاہم اس میں بجلی کی پیداواری لاگت، اصل اخراجات، مالیاتی ایڈجسٹمنٹ اور آئندہ برسوں کے فیس فریم ورک کا جائزہ لیا جائے گا، جس کی بنیاد پر کمیشن اپنی حتمی سفارشات اور احکامات جاری کرے گا۔ پائین شہر کے خانیار سے تعلق رکھنے والے ایک سبکدوش انجینئر محمد مقبول بیگ کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے تعین کے عمل میں شفافیت، بجلی کی مسلسل فراہمی، کم سے کم لوڈ شیڈنگ اور بہتر خدمات کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر بجلی کمپنیوں کو مالی طور پر مستحکم بنانا ضروری ہے تو اس کے ساتھ ساتھ عام صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے بھی گریز کیا جانا چاہیے۔ جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بجلی کے شعبے میں ٹیرف اصلاحات کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔ تاہم حکومت نے مالی سال 2025-26کیلئے گھریلو اور بیشتر سبسڈی یافتہ صارفین پر کوئی عمومی ٹیرف اضافہ نافذ نہیں کیا اور موجودہ رعایات برقرار رکھی۔ موجودہ سبسڈی کے تحت گھریلو صارفین کیلئے 200 یونٹ ماہانہ تک بجلی کی موثر شرح 2.30 روپے فی یونٹ، 201 سے 400 یونٹ تک 4 روپے فی یونٹ اور 400 یونٹ سے زائد استعمال پر 4.35 روپے فی یونٹ برقرار ہے، جبکہ ان زمروں کیلئے مکمل لاگت کے ٹیرف بالترتیب 7 روپے، 7.25 روپے اور 9 روپے فی یونٹ ہیں، جس کا بقیہ حصہ حکومت رعایت کی صورت میں برداشت کر رہی ہے۔ اسی طرح تجارتی اور دیگر زمروں کے صارفین کو بھی مختلف سطحوں پر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کیلئے یہ بھی واضح کیا تھا کہ بجلی نرخوں میں کوئی عمومی اضافہ نہیں کیا گیا ہے اور ’ٹائم آف ڈے ‘سرچارج میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ایسے میں مشترکہ بجلی انضباطی کمیشن کی 8 جولائی کی سماعت کو بجلی شعبے کی مالی ضروریات، پیداواری لاگت اور آئندہ برسوں کے ٹیرف فریم ورک کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔