پرویز مانوس
شہزاد غمزدہ چہرہ لئے بلندی سے گر رہے جھرنے کے پانی کو دیکھ رہا تھا اس کے ذہن میں زلیخاں کی وصیت کے الفاظ گونج رہے تھے، “یہ میری آخری خواہش ہے کہ میری میت کو نوری چھم کے پاس بڑے دیودار کے پیڑ کے نیچے دفن کیا جائے جہاں میرے شہزاد کی یادیں دفن ہیں ”
شہزادکی آنکھوں کے سامنے اس کا ماضی گھومنے لگا-
اس پہاڑی خطے کا حسن اپنے اندر ایک جادوئی سحر رکھتا تھا۔ نوری چھم کی وادی بھی ایک ایسی ہی جنت نظیر جگہ تھی جہاں صنوبر اور دیودار کے اونچے درخت ہوا کے دوش پر رقص کرتے، اور پہاڑوں کی اوٹ سے نکلتا ہوا چاندی جیسا چشمہ جب نیچے گرتا تو اس کی جھنکار دور دور تک سنائی دیتی۔ اس جھرنے کے پاس صبح کی دھوپ جب ہریالی پر پڑتی تو یوں لگتا جیسے کسی نے سبز مخمل پر سفید موتی بکھیر دیئے ہوں۔
اسی سحر انگیز وادی میں شہزاد اکثر اپنے والد گلفراز جٹ کے ٹھیکیداری کے کاموں کے سلسلے میں سفید گھوڑے پر چکر لگایا کرتا تھا۔ گلفراز جٹ علاقے کا نامور جاگیردار تھا، جس کی حویلی کی دھاک پورے علاقے پر تھی اور شہزاد اس کی اکلوتی اور لاڈلی اولاد تھا۔ لیکن شہزاد اپنے باپ کی طرح جاہ و جلال کا دلدادہ نہیں تھا، وہ ایک حساس اور جمالیاتی ذوق رکھنے والا نوجوان تھا۔
ایک روز جب وہ نوری چھم کے جھرنے کے قریب سے گزر رہا تھا، تو فضا میں تیرتی ہوئی ایک مدھر اور سحر انگیز آواز نے اس کے قدم روک لئے۔ کوئی بہت ہی میٹھے سروں میں ایک روایتی پہاڑی لوک گیت گا رہا تھا۔ شہزاد کے قدم خود بخود اس آواز کی سمت اٹھ گئے۔ ایک بڑے اور پرانے پتھر کی اوٹ میں ہو کر جب اس نے دیکھا، تو اس کی سانسیں وہیں تھم گئیں۔
ایک دراز قد لڑکی، جس کا چہرہ پہاڑی گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا، بڑی بڑی روشن اور گہری آنکھیں جن میں معصومیت جھلکتی تھی اور روایتی پہاڑی لباس جس پر ہاتھ کی کڑھائی کی گئی تھی۔ اس کے سیاہ گھنے بالوں میں گوندھی ہوئی چھوٹی چھوٹی مینڈیاں اس کے حسن کو مزید نکھار رہی تھیں۔ا
آغوش میں ایک خوبصورت میمنا-
شہزاد کو لگا جیسے وہ ہوش کی دنیا میں نہیں بلکہ دادی اماں کی سنائی ہوئی کوہ قاف کی پریوں کی کہانیوں میں پہنچ گیا ہے، اور یہ سامنے کھڑی لڑکی کوئی انسان نہیں بلکہ جھرنے کے پانی سے جنم لینے والی کوئی پری ہے۔
وہ لڑکی زلیخاں تھی، جو ہر روز وہاں اپنے مویشی چرانے لاتی تھی۔ اب یہ شہزاد کا روز کا معمول بن گیا تھا۔ وہ روز اسی راستے سے آتا، پتھر کی اوٹ میں چھپتا اور ہمہ تن گوش ہو کر زلیخاں کے گائے ہوئے گیت سنتا۔ پہاڑی گیتوں کے وہ الفاظ جن میں ہجر، ملاپ اور وادیوں کا حسن چھپا ہوتا تھا، شہزاد کے دل میں اترتے چلے گئے۔
ایک دن زلیخاں نے نوٹ کر لیا کہ کوئی روز چھپ کر اسے دیکھتا اور سنتا ہے۔ وہ چپکے سے گھوم کر آئی اور پتھر کے عقب میں بیٹھے شہزاد کو پیچھے سے جھنجھوڑا
“اے بابو! چوروں کی طرح چھپ کر کیا گیت سنتا ہے؟ سامنے آ کر کیوں نہیں سنتے؟”
اس کی آواز میں غصہ کم اور پہاڑی جھرنے جیسی شرارت زیادہ تھی۔
شہزاد ہڑبڑا گیا، اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
وہ حسن کی اس پری کو ایک تُک دیکھتا رہ گیا ،
بولتے کیوں نہیں ،گونگے ہو کیا؟
زلیخاں نے میمنے کو گود میں سے آزاد کرتے ہوئے کہا ،،
شہزاد سنبھلتے ہوئے بولا:
“مجھے… مجھے تمہاری آواز بہت سریلی لگتی ہے۔ جب یہ سُر اِن خوبصورت اور اونچے پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس آتے ہیں نا، تو ایک عجیب سا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ لگتا ہے جیسے پوری وادی گنگنا رہی ہو۔”
زلیخاں نے اس کی آنکھوں میں سچائی دیکھی تو مسکرا دی۔ یہ پہلی باقاعدہ ملاقات تھی، جس نے دو دلوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ استوار کر دیا جس پر وقت اور فاصلے بھی اثر انداز نہیں ہو سکتے تھے۔ زلیخاں کی محبت شہزاد کی نس نس میں لہو کی طرح بہنے لگی۔
جب محبت پروان چڑھی تو شہزاد نے اپنے گھر میں زلیخاں کا ذکر کیا۔ گلفراز جٹ ایک مغرور جاگیردار تھا، وہ اپنی اکلوتی اولاد کی شادی کسی عام چرواہے کی بیٹی سے کرنے پر تیار نہیں تھا۔ حویلی میں کئی روز تک خاموشی اور تناؤ رہا۔ لیکن شہزاد کی خاموش محبت اور اکلوتے بیٹے کی ضد کے سامنے آخر کار گلفراز جٹ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ وہ بڑی مشکل سے اس رشتے کے لئے مانا۔
حویلی میں سگائی کی رسم کے لئے ایسی تیاریاں کی گئیں جو پورے خطے نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھیں۔ دور دور سے مہمان بلائے گئے تھے، شامیانے لگ گئے اور دیگیں چڑھا دی گئیں۔ شہزاد کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، وہ اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت دن کا آغاز کرنے جا رہا تھا۔
لیکن قسمت کے ماتھے پر کچھ اور ہی لکھا تھا۔ وہ صبح، جو خوشیاں لانے والی تھی، اپنے ساتھ ایک ایسا طوفان لائی جس نے صدیوں کا بھائی چارہ، محبتیں اور بستیاں سب کچھ تہہ و بالا کر دیا-
ریڈیو پر جیسے ہی ملک کے دو ٹکڑے ہونے کا اعلان ہوا، پرامن پہاڑی خطے کی فضا یکسر بدل گئی۔ جگہ جگہ مذہبی فسادات پھوٹ پڑے۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والے انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ افواہوں اور نفرت کی آگ نے ہنستے کھیلتے دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
گلفراز جٹ کی حویلی پر بھی حملہ ہوا، ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ جان بچانے کے لیے لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ لوگ مارے گئے۔ اس افراتفری اور خونی طوفان میں زلیخاں کا خاندان بھی بکھر گیا۔ اس کا پورا گاؤں جل کر راکھ ہو چکا تھا اور وہ اپنے گھر والوں سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی۔
خون کے اس دریا کو پار کرتے ہوئے، فوج کے سپاہیوں نے زلیخاں کو ایک رفیوجی کیمپ میں پہنچا دیا۔ وہ کئی روز تک وہاں صدمے کی حالت میں بیٹھی رہی۔ اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں میں اب صرف خوف اور آنسو تھے۔ جب کئی دنوں تک اس کا کوئی وارث، کوئی رشتہ دار نہ ملا، تو کیمپ میں امدادی کاموں کے لئے آنے والے ایک بوڑھے ہندو پنڈت، پشکر ناتھ کی نظر اس معصوم لڑکی پر پڑی۔
پنڈت پشکر ناتھ کا دل پگھل گیا۔ اس نے زلیخاں کے سر پر ہاتھ رکھا اور کیمپ کے حکام سے کہا:
“صاحب کی یہ میری تیسری بیٹی ہے۔ میں اسے اپنے گھر لے جا رہا ہوں اور اس کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔”
کیمپ افسر نے ایک کاغذ پر پنڈت سے دستخط کرا کے زلیخاں کو اس کے سپرد کردیا –
پنڈت پشکر ناتھ نے زلیخاں کا مذہب تبدیل نہیں کرایا، نہ اس پر اپنی مرضی تھوپی، بلکہ اسے اپنی سگی بیٹیوں کی طرح عزت اور پناہ دی۔ اس طرح زلیخاں ہندوستان کی سرحد کے اندر ہی رہ گئی۔
دوسری طرف، گلفراز جٹ اپنی جان اور اپنے بیٹے شہزاد کو بچا کر سرحد پار پاکستان کی طرف نکل گیا۔ ان کے دماغ میں یہ سوچ تھی کہ “یہ مسلمانوں کا اپنا ملک ہے، وہاں جا کر ہم چین کی سانس لیں گے، وہاں ہماری اپنی حکومت ہوگی۔”
لیکن نئے ملک میں پہنچ کر جاگیردار گلفراز جٹ کی بساط ہی الٹ گئی۔ ان کی زمینیں، ان کی جائیداد سب کچھ سرحد کے اس پار چھوٹ چکے تھے۔ یہاں وہ ایک “مہاجر” تھے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ نے ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جس نے انہیں خون کے آنسو رلا دیا۔ کلیمز (Claims) کے دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر، افسروں کی بدسلوکی اور اپنوں کی بے رخی دیکھ کر گلفراز جٹ کا غرور خاک میں مل گیا۔
کہاں وہ گلفراز جس کے صافے کا شملہ غرور کے آسمان کو چھو تا تھا اور کہاں اب وہ کیمپ میں دو وقت کی روٹی کا محتاج تھا
آخر کار وہ پاکستان میں ایک مہاجر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ایک دن گلفراز جٹ نے روتے ہوئے شہزاد سے کہا:
“بیٹے! مجھے اپنی سوچ پر پچھتاوا ہے۔ ہم نے سوچا تھا کہ زمینیں بانٹنے سے جنت مل جائے گی، لیکن ہم تو اپنے ہی ملک میں اجنبی ہو گئے۔”
اسی حسرت، پچھتاوے اور اپنے آبائی وطن میں رہنے والے رشتہ داروں اور مٹی سے ملنے کی ارمان لئے گلفراز جٹ سسک سسک کر ایک دن دم توڑ گیا۔
سال ہا سال گزر گئے۔ چالیس برس کا طویل عرصہ بیت گیا۔ شہزاد کے بالوں میں چاندی چمکنے لگی تھی تھی، چہرے پر جھریوں کی لکیریں ماضی کے دکھوں کا پتہ دیتی تھیں، لیکن اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں نوی چھم کا وہ جھرنا اور زلیخاں کا روایتی پہاڑی لباس اب بھی ویسے ہی محفوظ تھا جیسے کوئی مقدس تبرک ہو۔
ایک دن اچانک ریڈیو اور اخبارات میں خبر آئی کہ دونوں ممالک کی حکومتوں نے جذبہ خیر سگالی کے تحت، کنٹرول لائن پر ایک “کراسنگ پوائنٹ” کھولنے کا اعلان کیا ہے تاکہ چالیس برس سے بچھڑے ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے مل سکیں۔
یہ خبر سنتے ہی شہزاد کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس کے مرجھائے ہوئے جسم میں جیسے یکدم جان آ گئی۔ اس کا دل زور سے دھڑکا “میری زلیخاں! وہ زندہ ہوگی۔ مجھے یقین ہے وہ میرا انتظار کر رہی ہوگی۔” وہ تمام دفتری کارروائیاں پوری کر کے، گرتے سنبھلتے ہوئے سرحد پار اس وادی کی طرف روانہ ہوا جہاں اس کا بچپن اور اس کی محبت چھوٹی تھی۔
شہزاد پرانی نشانیوں کو ڈھونڈتا، لوگوں سے پوچھتا گچھتا آخر کار اس پتے پر پہنچ گیا جہاں پنڈت پشکر ناتھ کا گھر تھا۔ پنڈت پشکر ناتھ تو سالوں پہلے مر چکے تھے، لیکن ان کی چھوٹی بیٹی رانو اپنے باپ کے مرنے کے بعد بھی زلیخاں کی دیکھ بھال بڑی بہن سمجھ کے کر رہی تھی۔
جب شہزاد نے اس پرانے لکڑی کے مکان کے صحن میں قدم رکھا، تو فضا میں وہی پرانی پہاڑی اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ پنڈت کی بیٹی نے شہزاد کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں پہچان کے آنسو آ گئے۔ کیونکہ زلیخاں اکثر اس کا ذکر کرتی تھی ،اس نے اشارے سے اندر کے کمرے کی طرف بتایا۔
شہزاد نے کانپتے قدموں سے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔
مدہم روشنی، لکڑی کی کھڑکی سے آتی ہوئی پہاڑی ہوا کی سرسراہٹ۔
بستر پر ایک ضعیف، انتہائی کمزور اور نحیف عورت لیٹی ہوئی تھی۔
اس کا دراز قد اب جھک چکا تھا، لیکن وہ بڑی بڑی آنکھیں اب بھی وہی تھیں، جن میں زندگی کا آخری چراغ جھلملا رہا تھا۔
زلیخاں اپنی زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہی تھی۔ جیسے ہی اس نے کمرے کے دروازے پر شہزاد کو دیکھا، چالیس سال کی جدائی کا سارا درد اس کی آنکھوں سے بہہ نکلا۔ اس نے اپنے نحیف اور کانپتے ہوئے جسم کو پوری طاقت سمیٹ کر بستر سے اٹھایا تاکہ وہ اپنے شہزاد سے مل سکے۔
شہزاد آگے بڑھا اور جیسے ہی اس نے زلیخاں کو اپنی بانہوں میں لیا، زلیخاں نے ایک گہری سانس لی، اس کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آئی، اور اس کا سر شہزاد کے کندھے پر ڈھلک گیا۔ اس نے شہزاد کی بانہوں میں ہی اپنے آخری سانس لی۔ چالیس سال کا انتظار صرف ایک لمحے کے ملاپ کے لئے تھا، اور وہ لمحہ ابدیت میں بدل گیا۔
شہزاد کا دل پھٹ گیا، وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ وہاں موجود پنڈت کی بیٹی رانو بھی اپنے آنسو نہ روک سکی۔
اگلے دن، شہزاد نے مقامی مسلمانوں کی مدد سے روایتی اسلامی طریقے کے مطابق زلیخاں کو غسل دلوایا، اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا۔ جب اسے اسی پہاڑی مٹی کے سپرد کیا جا رہا تھا، جہاں وہ کبھی گیت گایا کرتی تھی، تو شہزاد قبر کی مٹی پر سر رکھ کر بیٹھ گیا۔
اس نے روتی ہوئی آنکھوں سے قبر کی تازہ مٹی کو دیکھا اور انتہائی دردناک آواز میں زلیخاں سے مخاطب ہو کر کہا:
“زلیخاں….! تو کتنی خوش قسمت ہے… تو اپنے وطن کی مٹی میں پیدا ہوئی، اسی مٹی کی ہواؤں میں سانس لیا، اور آج اپنے ہی وطن کی گود میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی لیکن میرا کیا ہوگا ؟ میں تو اس پار بھی اجنبی تھا، اس پار بھی مسافر ہوں۔ میں تو مہاجر ہی جیا ہوں… اور میں تو مہاجر ہی مروں گا!”
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر
موبائل نمبر941946348