ش۔شکیل
ایک عورت سفر کرنے کی غرض سے گھر سے روانہ ہو گئی۔ بس اسٹینڈ بڑی عجلت سے پہنچ گئی۔ ادھر اُدھر نظریں دوڑا ئیں ۔ تا کہ اپنی مطلوبہ بس میں بیٹھ کر اپنے سفر کا آغاز کر سکے۔ ایک بس پر عورت کی نظریں مرکوز ہو گئیں۔ شاید اُسے اپنی مطلوبہ بس نظر آ گئی تھی۔ تیزی سے بس کی طرف بڑھ گئی اور بس میں سوار ہو گئی۔ عورت کو بس کی ہر ایک سیٹ پر مسافر بیٹھا نظر آیا۔ ایک لمحے کے لئے رک کر ایک سیٹ کی طرف بڑھ گئی۔ اُ سے وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا نظر آیا تھا اور اُس کے بازو والی سیٹ خالی تھی۔تیزی سے سیٹ پر بیٹھ گئی۔ عورت کے پاس ایک بھاری بیگ تھا۔اپنے پیروں کے سامنے بیگ رکھ کر زور سے اندر کی جانب ڈھکیل دیا ۔ جس کی وجہ سے بازو میں جوآدمی بیٹھا ہوا تھا،اُس کے پیر کا پنجہ قدرے کچل گیا اور وہ آدمی بلبلا کر کہہ اُٹھا۔ ’’آہ۔۔ میراپیر کچل گیا۔‘‘ آدمی کو ہلکی سی تکلیف ہوئی مگر اس نے عورت سے کچھ نہیں کہا۔خاموش اپنی جگہ بیٹھا رہا۔بار بار عورت آدمی کی طرف دیکھ رہی تھی۔عورت کو محسوس ہو رہا تھا کہ آدمی زور زور سے گالی گلوچ کرتے ہوئے لڑ پڑے گا۔ لیکن عورت جیسے سوچ اور محسوس کر رہی تھی ویسے کچھ نہیں ہوا۔ آدمی بڑے اطمینان سے خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھا رہا۔ عورت ہی ڈر اور خوف کے ملے جھلے جذبات سے ہچکچاتے ہوئے آدمی سے پوچھنے لگی۔’’ جناب آپ کو کہیں زیادہ چوٹ تو نہیں آئی؟ میرے بیگ سے تم کو چوٹ پہنچی ‘ پھر بھی آپ میرے ساتھ نہیں لڑ پڑے ‘دوسرا کوئی آدمی ہوتا تو اب تک کئی گالیاں دے کر سارے بس کے مسافروں کے سامنے ذلیل کر دیا ہوتا۔‘‘ آدمی مسکرایا اور بولا۔’’اتنی چھوٹی سی بات اور چوٹ پر ناراض ہونے کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔ نہ یہ بس تمہاری ہے اور نہ ہی میری ہے۔ دوسری جو اہم بات ہے وہ یہ ہے۔میں اور تم یہاں مستقل تھوڑ ی رہنے والے۔ میں اور تم اور بس میں سوار سارے لوگ سفر کر رہے ہیں‘ ہمارا سفر اور ساتھ بہت مختصر ہے۔ لڑ جھگڑ کر کیا ملنے والا‘ میں اگلے اسٹاپ پر اُترنے والا ہوں۔‘‘ یہ سن کر عورت خاموش ہو گئی۔ آدمی کے الفاظ اور جملے عورت کے ذہن میں گونجنے لگے ۔ ’’ہمار ا سفراور ساتھ بہت مختصر ہے۔ لڑ جھگڑ کر مجھے اور تم کو کیا ملنے والا۔‘‘ عورت نے سوچا کہ’’ یہ بات صرف بس کے سفر کے لئے نہیں ‘بلکہ زندگی کے سفر کے لئے بھی سچ ہے۔ ہم بہت سے لوگوں سے زندگی میں ملتے ہیں۔ کچھ وقت اُن کے ساتھ رہتے ہیں۔کوئی ہم سے جلد جدا ہو جاتے ہیںیا کسی سے ہم جلد جدا ہو جاتے ہیں۔ مگر ہم اپنی قیمتی زندگی غصے، دکھ اور ناراضگی میں گزار دیتے ہیں۔ہم جھگڑتے ہیں ، موازنہ کرتے ہیں اور دل میں کینہ رکھتے ہیں، یہ بھول کر کہ ہم سب مسافر ہیں۔عورت کی سوچ کا دائرہ وسیع ہو گیاتوآگے وہ سوچنے لگی’’ اگر لوگ معافی، محبت اور مہربانی کی قدر سمجھ جائیں تو دنیا کتنی خوبصورت ہو سکتی ہے۔‘‘ اگلے اسٹاپ پر آدمی اُتر گیا۔ جاتے جاتے سفر کیونکر اور کیسے کرنا چاہئے‘ اس کے معنی اور مفہوم سمجھاتاہوابس میں بیٹھے تمام مسافروں سے جدا ہو گیا۔
���
اورنگ آباد
موبائل نمبر؛9529077971