ایجنسیز
واشنگٹن// امریکی ایوانِ نمائندگان نے 3 جون 2026 کو 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے ایک ایسی قرارداد منظور کر لی جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے اور امریکی فوجی کارروائی روکنے کا پابند بنایا جا سکتا ہے، جب تک کہ کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کی منظوری نہ دے۔ایوانِ نمائندگان میں قرارداد کے حق میں 215 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔ چار ریپبلکن اراکین نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی۔ اس ’’وار پاورز ریزولوشن‘‘ کے تحت صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران سے امریکی فوجیں واپس بلائیں، جب تک کہ کانگریس جنگ کا باضابطہ اعلان نہ کرے یا فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہ دے۔یہ کانگریس میں ٹرمپ کے لیے ایک اور دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، حالانکہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ان کی جماعت کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔فی الحال اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے کیونکہ قانون بننے کے لیے اسے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ہوگا۔ مزید یہ کہ اس بارے میں قانونی بحث بھی موجود ہے کہ آیا کانگریس کی جانب سے منظور کردہ ایسی جنگی اختیارات کی قراردادیں آئینی حیثیت رکھتی ہیں یا نہیں۔
اس کے باوجود، یہ ووٹنگ بعض ریپبلکن اراکین کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی پر بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتی ہے اور صدارتی جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی ایک نادر دو جماعتی کوشش بھی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل ایسی تین قراردادیں ایوان میں ناکام ہو چکی تھیں، اگرچہ ہر بار فرق کم ہوتا جا رہا تھا۔ گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے اس قرارداد پر ووٹنگ اس وقت مؤخر کر دی تھی جب اس کی منظوری کے امکانات روشن دکھائی دے رہے تھے۔سینیٹ نے گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک علیحدہ قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھایا تھا، حالانکہ اس سے قبل سات کوششیں ناکام رہی تھیں۔ تاہم اس قرارداد پر مزید ووٹنگ کا شیڈول ابھی تک طے نہیں کیا گیا۔اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے چار ریپبلکن ارکان میں مشی گن کے ٹام بیریٹ، اوہائیو کے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا کے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی کے تھامس میسی شامل تھے۔کسی بھی ڈیموکریٹ رکن نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی، جبکہ سات اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔حالیہ مہینوں میں بہت کم ریپبلکن اراکین نے ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی، تاہم اب بعض معاملات پر انہیں اپنی جماعت کے اندر سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بدھ کے روز ہی ایوانِ نمائندگان نے ایک طریقہ کار سے متعلق قرارداد بھی منظور کی جس سے ’’یوکرین سپورٹ ایکٹ‘‘ پر ووٹنگ کی راہ ہموار ہو گئی۔ اس قانون کے تحت یوکرین کو روسی جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی۔ یہ بل اس وقت ایوان میں لایا گیا جب اس کے حق میں 218 دستخطوں کی مطلوبہ حد پوری ہو گئی۔اس اقدام کے حق میں چھ ریپبلکن اور ایک آزاد رکن نے بھی ووٹ دیا، جو عموماً ریپبلکنز کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں۔حال ہی میں بعض ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کے اس منصوبے کے خلاف بھی بغاوت کی تھی جس کے تحت ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جانا تھا تاکہ ان کے سیاسی حامیوں کو ادائیگیاں کی جا سکیں، جو اپنے آپ کو حکومتی زیادتیوں کا نشانہ قرار دیتے ہیں۔ریپبلکن اراکین نے بدھ کے روزبل پلٹے کی نامزدگی پر بھی تنقید کی، جنہیں ٹرمپ نے قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔ پلٹے ایک رہائشی قرضوں کے ریگولیٹر ہیں اور قومی سلامتی کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے باضابطہ اجازت حاصل کی جائے، کیونکہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صدر کے بجائے کانگریس کے پاس ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ممکنہ طور پر ملک کو ایک طویل جنگ میں دھکیل دیا ہے۔