عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سابق کابینہ وزیر اور اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے کہا ہے کہ دہلی میں دھرنے کا اعلان کرکے برسرِ اقتدار نیشنل کانفرنس دراصل مرکز کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے امکان کو کمزور کر رہی ہے۔سرینگر میں میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران غلام حسن میر نے کہا کہ اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے حال ہی میں جموں میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح لداخ اور کرگل کے لیڈر اور نمائندے اپنے مطالبات کے حوالے سے یک جھْٹ ہوئے اور مرکز سے مثبت جواب حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، اسی طرح جموں و کشمیر کے عوام اور سیاسی سٹیک ہولڈرز کو بھی متحد ہو کر مرکزی سرکار کے ساتھ تعمیری انداز میں بات چیت کرنی چاہیے تاکہ ان کے مسائل اور جائز مطالبات کا حل نکالا جا سکے۔این سی کی جانب سے دہلی میں دھرنے کے اعلان پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے غلام حسن میر نے کہا، ’’این سی کی ایک تاریخ اور روایت رہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور انتخابی فائدے کے لیے عوام کو بڑے بڑے وعدوں کے ذریعے گمراہ کرتی رہی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکز کے ساتھ بات چیت کی جائے تاکہ جموں و کشمیر کو درپیش مسائل اور مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ لیکن نیشنل کانفرنس نے دہلی میں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر وہ واقعی جموں و کشمیر کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہوتی تو یہ راستہ اختیار نہ کرتی۔انہوں نے کہا، ’’دہلی میں دھرنے کا اعلان کرکے این سی عوامی مسائل کی نشاندہی، قابلِ حصول اہداف کے تعین اور مرکز کے ساتھ تعمیری مکالمے کے حقیقی طریق کار کو کمزور کر رہی ہے۔‘‘غلام حسن میر نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری شکایات کے ازالے اور مسائل کے حل کے لیے مرکز کے ساتھ تعمیری رابطہ اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’محاذ آرائی اس کا حل نہیں ہے مگر بدقسمتی سے این سی کبھی بھی ایسا ہونے نہیں دے گی۔