عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//رکن پارلیمان اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور آئینی حقوق کی بحالی کے لیے جاری جدوجہد محض نمائشی اقدامات یا وقتی سیاسی سرگرمیوں کے بجائے مستقل مزاجی، سنجیدگی اور عوامی اعتماد پر مبنی ہونی چاہیے۔ آغا روح اللہ نے کہا کہ عوام اب سیاسی قیادت سے سنجیدہ سوالات پوچھ رہے ہیں اور ایسے میں قیادت کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے پوری وادی کشمیر اور نئی دہلی میں منظم عوامی رابطہ مہم چلائی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق صرف ایک دن کے احتجاج یا علامتی اقدامات سے عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایک جامع اور طویل المدتی تحریک کی ضرورت ہے۔
آغا روح اللہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں حال ہی میں منعقدہ پارٹی اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں واقعی جموں و کشمیر کے حقوق کی بحالی کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنی جماعتی شناختوں سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہیے۔رکن پارلیمان نے کہا کہ اگر ایسی کوئی مشترکہ تحریک وجود میں آتی ہے تو وہ اس کے لیے پہلا عملی قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا ’’میں سب سے پہلے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دوں گا اور چاہوں گا کہ آئندہ نمائندے سیاسی جماعتوں کے بجائے مشترکہ عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے سامنے آئیں،‘‘ ۔آغا روح اللہ کا کہنا تھا کہ اکثر سیاسی جماعتیں وقتی طور پر اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہیں لیکن بعد میں دوبارہ انتخابی سیاست کی طرف لوٹ جاتی ہیں، جس سے اجتماعی جدوجہد کمزور پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اسی وقت کسی تحریک پر اعتماد کریں گے جب انہیں اس میں اخلاص، مستقل مزاجی اور عملی سنجیدگی نظر آئے گی۔