عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنانے کے لیے انتظامی محکموں کے مالی اختیارات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ خزانہ کی جانب سے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف انتظامی محکموں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹیکنیکل منظوری دینے کے اختیارات کی مالی حد 2 کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی دفعہ 67 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے مالی اختیارات کی تفویض سے متعلق سابقہ احکامات میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق 9 جنوری 2020 کے نوٹیفکیشن ایس او 15 اور 9 جولائی 2021 کے ایس او 227 کے تحت جاری کردہ مالی اختیارات کے ضوابط میں ترمیم کی گئی ہے۔
نئی ترمیم کے بعد انتظامی محکمے اب 5 کروڑ روپے تک لاگت والے منصوبوں کو ٹیکنیکل منظوری دے سکیں گے۔اس سے قبل یہ حد صرف 2 کروڑ روپے تک محدود تھی، جس کے باعث اس سے زائد لاگت والے منصوبوں کو منظوری کے لیے اعلیٰ سطح پر بھیجنا پڑتا تھا۔نوٹیفکیشن کے مطابق اب 5 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبے اعلیٰ اختیاری سطح کے زمرے میں آئیں گے اور ان کے لیے متعلقہ بالائی حکام کی منظوری درکار ہوگی۔سرکاری حلقوں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے عمل میں تیزی آئے گی، غیر ضروری تاخیر کم ہوگی اور مختلف محکموں کو اپنے منصوبوں پر بروقت عمل درآمد میں سہولت حاصل ہوگی۔انتظامی ماہرین کے مطابق مالی اختیارات میں اس اضافے سے بنیادی ڈھانچے، تعمیرات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں کی رفتار بہتر ہونے کی توقع ہے، کیونکہ اب درمیانے درجے کے بیشتر منصوبوں کی منظوری محکمہ جاتی سطح پر ہی ممکن ہو سکے گی۔