عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// معروف معالج، دانشور، ادیب، مصنف اورکالم نگار ڈاکٹر جاوید اقبال کل انتقال کر گئے۔ڈاکٹر جاوید اقبال ایک ممتاز طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کے ادیب، قلم کار اور دانشور بھی تھے۔ انہوں نے ملک اور بیرونِ ملک طب کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ کئی برسوں تک ایران میں شعبہ طب سے وابستہ رہے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کشمیر سمیت مختلف مقامات پر عوامی خدمت اور طبی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا۔ادبی اور صحافتی میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وہ طویل عرصے تک جموں و کشمیر کے معروف روزناموں کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ رہے۔
عصرِ حاضر کے سیاسی، سماجی، ادبی اور ثقافتی معاملات پر ان کی گہری نظر تھی، اور ان کے مضامین فکری بصیرت اور متوازن تجزیے کے لیے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ڈاکٹر جاوید اقبال نے تین برس تک جموں و کشمیر اردو کونسل کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کے دورِ صدارت میں کونسل نے علمی، ادبی اور ثقافتی میدانوں میں متعدد اہم سرگرمیاں انجام دیں اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے۔جموں و کشمیر اردو کونسل کے تمام اراکین نے ڈاکٹر جاوید اقبال کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے علمی و ادبی دنیا کا ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ادھرمیرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ڈاکٹر جاوید اقبال کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں میرواعظ نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید اقبال کے انتقال سے کشمیر اپنے ایک بہترین ذہن سے محروم ہو گیا ہے جس کی دانشمندی، عاجزی اور علم سے وابستگی نے بے شمار زندگیوں کو چھو لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جاوید کشمیر کی تاریخ اور معاشرے کے بارے میں گہری بصیرت کے مالک تھے اور انہوں نے اپنی فکر انگیز تحریروں اور عکاسیوں کے ذریعے عوام کی سمجھ میں اضافہ کیا۔میرواعظ نے سوگوار خاندان، دوستوں، ساتھیوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا۔